دہلی :اتراکھنڈ کا رہنے والا ایک نوجوان روی گپتا اپنے دوست کے ساتھ دہلی آیا تھا،تاکہ اپنی ناراض بیوی سے صلح کر سکے ۔لیکن اسی دوران دونوں کی مشکوک حالات میں موت ہو گئی۔خاندان والوں کا الزام ہے کہ یہ عام موت نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند سازشی قتل ہے۔فی الحال پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
10 سال قبل ہوئی تھی شادی:
معلومات کے مطابق، 32 سالہ روی گپتا کی شادی 10 سال پہلے منڈاولی کی رہائشی انجلی سے ہوئی تھی۔ پچھلے کچھ مہینوں سے دونوں میاں بیوی کے درمیان تنازع چل رہا تھا۔ یہ تنازع وقت کے ساتھ اتنا بڑھ گیا تھا کہ معاملہ دہلی پولیس کی خاتون ہیلپ لائن تک پہنچ گیا۔ اسی سلسلے میں 5 جنوری کو روی کو انجلی سے صلح کرنے کے لیے دہلی بلایا گیا۔ اسی وجہ سے وہ اپنے دوست گولو شرما اور آٹھ سالہ بیٹے ابھیمنیو کے ساتھ دہلی آیا تھا۔ روی نے اپنے بیٹے کو سسرال میں چھوڑ دیا تھا اور اس کے بعد وہ ہیلپ لائن میں اپنی بیوی سے ملنے گیا۔ اس کے بعد سے روی اور گولو دونوں لاپتہ تھے۔
دونوں لاشیں ریلوے اسٹیشن کے قریب ملیں :
خاندان والوں کے مطابق، 7 جنوری کو ہلدوانی پولیس نے انہیں اطلاع دی کہ روی کی لاش منڈاولی ریلوے اسٹیشن کے قریب ملی ہے۔ جیسے ہی اطلاع ملی، خاندان والے فوراً دہلی پہنچ گئے۔ وہاں پہنچنے پر انہیں پتہ چلا کہ لاش تو 5 جنوری کو ہی برآمد کر لی گئی تھی اور پھر بھی خاندان والوں کو وقت پر اطلاع نہیں دی گئی، حالانکہ اس وقت روی کے پاس آدھار کارڈ اور پین کارڈ بھی تھے۔ اسی علاقے میں پولیس کو 6 جنوری کو اس کے دوست گولو شرما کی لاش بھی ملی۔ دونوں کی موت ایک ہی جگہ اور تقریباً ایک ہی وقت پر ہونے سے پولیس کا اس معاملے پر شک اور بڑھ گیا ہے۔
قتل کا شبہ :
روی کے جسم پر کئی جگہوں پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے۔ خاندان والوں نے بتایا کہ اس کے بائیں ہاتھ، پاؤں اور جبڑے پر سنگین چوٹوں کے نشانات تھے۔ اسی طرح اس کے دوست گولو شرما کے جسم پر بھی نشانات ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ گولو ہلدوانی میں آٹو چلاتا تھا اور اصل میں باریلی کا رہنے والا تھا۔ گولو کے خاندان والوں نے اس کی لاش کو باریلی لے جا کر تدفین کر دی ہے۔ روی کا آخری رسم جمعہ کو ادا کیا گیا۔ دونوں لاشوں کی حالت دیکھ کر خاندان والوں کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش ہے۔
روی کے والد کا الزام :
متوفی روی کے والد اومکار گپتا نے صاف صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ان کے بیٹے کا قتل کیا گیا ہے۔ وہ نینی تال روڈ پر ایم بی پی جی کالج کے قریب پھلوں کا ٹھیلہ لگاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیوالی پر روی کی بیوی مائیکے چلی گئی تھی۔ بعد میں خاندان نے صلح کی کوشش بھی کی تھی، لیکن کوئی حل نہ نکل سکا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ روی اور گولو، دونوں کی لاشیں روی کے سسرال سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر ملی ہیں، جس کی وجہ سے اس کیس میں اور بھی کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ دریں اثنا روی کی بیوی نے بھی قتل کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ آگے انہوں نے کہا کہ وہ دہلی آکر پولیس میں تحریری شکایت درج کروائیں گے۔