Tuesday, March 10, 2026 | 20 رمضان 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • جمعیۃ علماء ہند نے اتم نگر واقعہ پر دہلی کے جوائنٹ سی پی سے کی ملاقات، ایل جی اور وزیر داخلہ کومکتوب روانہ

جمعیۃ علماء ہند نے اتم نگر واقعہ پر دہلی کے جوائنٹ سی پی سے کی ملاقات، ایل جی اور وزیر داخلہ کومکتوب روانہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Mar 10, 2026 IST

جمعیۃ علماء ہند نے اتم نگر واقعہ پر دہلی کے جوائنٹ سی پی سے کی ملاقات، ایل جی اور وزیر داخلہ کومکتوب روانہ
 
  •  دہلی اتم نگر واقعہ پر جمعیۃ علماء ہند کا سخت نوٹس
  •  جوائنٹ پولیس کمشنر جتن نروال سے ملاقات
  •  ایل جی اور  وزیر داخلہ کو بھی مکتوب
  •  مسلم اقلیت کے تحفظ سمیت پانچ مطالبات پیش
جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفدنے منگل کو مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر جوائنٹ پولیس کمشنر  جتن نروال سے ان کے دفتر جنک پوری میں ملاقات کی۔اس وفد کی قیادت جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کی۔

 تفصیلی میمورنڈم،مرکزی وزیر داخلہ اور ایل جی کو خط

 وفد نے اتم نگر کی جے جے کالونی میں 26 سالہ ترون کمار کی موت کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورت حال اور بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایک تفصیلی میمورنڈم بھی پیش کیا گیا ۔اس سلسلے میں جمعیۃ کی طرف سے مرکزی وزیر داخلہ، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی پولیس کمشنر کو بھی خط ارسال کیا گیا ہے ۔

 علاقے کے مسلمان شدید خوف اور بے چینی

وفد نے پولیس حکام کو بتایا کہ واقعہ کے بعد علاقے کے مسلمان شدید خوف اور بے چینی میں مبتلا ہیں۔ بعض فرقہ پرست عناصر  مسلسل اشتعال انگیزی کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی نفرت انگیز ویڈیوز اور اشتعال انگیز نعروں کے ذریعے ایک پوری کمیونٹی کو برباد کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس کی راجدھانی میں ایسے عناصر اس قدر حوصلہ سےنسل کشی کی  دھمکی دے رہے ہیں اور ان کو کسی کارروائی یا قانون کا کوئی خوف نہیں ہے۔

 ترون کمار کی موت افسوسناک، شفاف جانچ کی مانگ

جمعیۃ علماء ہند نے اپنے میمورنڈم میں کہا کہ ترون کمار کی موت کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور تنظیم اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ لیکن مکمل صورت حال کا سامنے آنا ضروری ہے ، اس لیے پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی لوگوں کے مطابق یہ واقعہ دو فریقوں کے درمیان جھگڑے کا نتیجہ ہے، تاہم بعض عناصر نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

 توڑ پھوڑ، لوٹ ماراور آگ زنی۔ بلڈوزر کاروائی

میمورنڈم میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ واقعہ کے بعد ملزمین اور ان کے پڑوسیوں کے گھروںمیں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ زنی کی اطلاعات ملی ہیں اور ایم سی ڈی کی جانب سے کی گئی بلڈوزر کاروائی بھی قانونی طریقہ کار کے مطابق نہیں معلوم ہوتی، جب کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ کسی بھی شہری کے خلاف کاروائی صرف قانون کے طے شدہ طریقہ کار (Due Process of Law) کے تحت ہی کی جا سکتی ہے۔

 حکومت اور پولیس کو پیش کئے مطالبات 

جمعیۃ علماء ہند نے اس موقع پر حکومت اور پولیس انتظامیہ کے سامنے یہ مطالبات پیش کیے کہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے اور تشدد پر اکسانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی اشتعال انگیزی پر فوری روک لگائی جائے۔جے جے کالونی اور اطراف کے علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مؤثر سیکورٹی انتظامات کیے جائیں۔واقعہ کے بعد ہونے والی توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ زنی کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔

 رمضان اورعید پر سیکورٹی اورعبادت کے مکمل انتظامات کی مانگ

نیز رمضان المبارک اور عید الفطر کے پیش

وفد  کو جوائنٹ کمشنر پولیس کی یقین دہانی 

 نظر مسلمانوں کو بازار کھولنے، مساجد میں نماز ادا کرنے اور عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے کے لیے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
جوائنٹ کمشنر پولیس جتندر نروال نے وفد کو یقین دلایا کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں اور نفرت و افواہیں پھیلانے والے عناصر کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ باہر کے افراد کے علاقے میں داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے امن کمیٹی کی میٹنگ بھی منعقد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مسلمانوں کو عبادات اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے فوری طور پر مقامی تھانے سے رابطہ کر کے بازار کی صورتحال معلوم کی اور ہدایت دی کہ دکانیں معمول کے مطابق کھولی جائیں اور مسلم دکانداروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

جمعیۃ علماء ہند کے وفد  میں شامل افراد 

جمعیۃ علماء ہند کے وفد میں ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند)، ایڈوکیٹ محمد نوراللہ (سپریم کورٹ)، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری، نائب صدر مولانا قاری عارف قاسمی، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے سکریٹری حافظ محمد یوسف اعظمی، مولانا مفتی محمد ذاکر قاسمی (مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند) اور قاری فرقان چودھری (صدر جمعیۃ علماء شمال مغربی دہلی) شامل تھے۔مقامی افراد میں  جمیل احمد (سماجی کارکن) اور محمد سرتاج نے بھی وفد کے ساتھ شرکت کی اور پولیس حکام کو علاقے کے حالات اور عوامی خدشات سے آگاہ کیا۔

 مقامی افراد کو امن و امان بنائے رکھنے کی اپیل 

اس موقع پر ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے مقامی افراد سے امن وامان بنائے رکھنے کی اپیل کی اورکہا کہ اگر ضرورت ہو جمعیۃعلماء ہند ہر ممکن مدد فراہم کرے گی ۔