دہلی کے اُتّم نگر علاقے میں ہولی کے دن 26 سالہ ترن نامی نوجوان کے قتل سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ یہ قتل ہولی کے دن رنگ بھرے غبارے کو مسلم برادری کی ایک خاتون پر پھینکنے کے معاملے پر ہوا۔ اس قتل معاملہ کو ہندوتوا تنظیموں کے لوگوں نے فرقہ وارانہ رنگ دیا اور خوب ہنگامہ کیا، جس کے بعد کچھ شر پسندوں نے ملزم کے گھر کے سامنے کھڑی کار اور بائیک کو آگ لگا دی۔ اسی طرح کچھ شر پسند ملزم کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے لگے، سامان کو گھر سے باہر پھینک دیا اور ان سامانوں میں آگ لگا دی۔
ادھر دہلی نگر نگم نے اتوار 8 مارچ ،یعنی آج ترن قتل کے ملزم کے گھر پر بلڈوزر کاروائی کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،ترن کی ہلاکت کے بعد متاثرہ فیملی مسلسل یہ مطالبہ کر رہی تھی کہ ملزم کے گھر پر بلڈوزر چلایا جائے۔ اب دہلی نگر نگم نے ملزم کے گھر پر بلڈوزر چلا دیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے اس معاملے میں 7 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ علاقے میں قانون و ضبط برقرار رکھنے کے لیے دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی بھاری تعیناتی کی گئی ہے اور علاقے کو ڈویژن اور سب ڈویژن میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ترن کا خاندان اور ملزم کا خاندان پڑوسی ہیں اور گزشتہ 50 سال سے اُتّم نگر کے ہستسال جے جے کالونی میں رہ رہے تھے۔ دونوں خاندانوں کے درمیان پرانی دشمنی کی بھی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ 4 مارچ کو ہولی کے دن ترن کی چچیرے بہن چھت پر ہولی کھیل رہی تھیں، تبھی ایک رنگ بھرا غبارہ پڑوس میں رہنے والی مسلم خاتون پر گر گیا۔ اس سے خاتون بہت ناراض ہوئیں، جس کے بعد کہا سنی ہوئی۔ یہ کہا سنی جھگڑے میں تبدیل ہو گئی اور ترن کے خاندان اور پڑوسی مسلم خاندان کے درمیان لڑائی ہو گئی۔
اس دوران ملزم خاندان کے دو تین افراد کو بھی شدید چوٹیں آئی ہیں۔ اسی لڑائی کے دوران ترن کے سر پر لوہے کی راڈ سے چوٹ لگی، جس کے بعد ترن کو شدید حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈاکٹروں نے اگلے دن ترن کو مردہ قرار دے دیا۔ ترن کی موت کے بعد اس دو پڑوسی خاندانوں کے جھگڑے میں ہونے والی ہلاکت کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا اور ہندوتوا تنظیموں کے لوگوں نے احتجاج کے نام پر خوب فساد مچایا۔