Saturday, May 16, 2026 | 28 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • نروس سسٹم کی بیماریاں، بروقت علاج اورجدید نیورو سرجری کی اہمیت

نروس سسٹم کی بیماریاں، بروقت علاج اورجدید نیورو سرجری کی اہمیت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 16, 2026 IST

نروس سسٹم کی بیماریاں، بروقت علاج اورجدید نیورو سرجری کی اہمیت
 
 منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام “ہیلتھ اور ہم” میں حیدرآباد کے اولیو ہاسپٹل کے معروف کنسلٹنٹ نیورو سرجن ڈاکٹر رگھو رام تیجا نے دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور نروس سسٹم سے جڑی بیماریوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی جسم میں دماغ سب سے اہم عضو ہے کیونکہ جسم کا ہر حصہ براہِ راست دماغ اور نروس سسٹم سے جڑا ہوتا ہے۔ دماغ میں معمولی نقصان بھی جسم کے مختلف اعضاء پر اثر ڈال سکتا ہے۔
 
ڈاکٹر رگھو رام تیجا کے مطابق نروس سسٹم کی بیماریوں کے علاج میں نیورولوجسٹ اور نیورو سرجن دونوں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نیورو سرجن خاص طور پر دماغی چوٹ، برین اسٹروک، برین ٹیومر، اسپائن انجری اور کمر کے پیچیدہ مسائل کا علاج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک حادثات یا اونچائی سے گرنے کے بعد دماغ یا ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
 
انہوں نے واضح کیا کہ ہر کمر درد کے لیے سرجری ضروری نہیں ہوتی۔ اگر درد کے ساتھ ہاتھوں یا پیروں میں کمزوری محسوس ہونے لگے تو یہ نروز پر دباؤ کی علامت ہوسکتی ہے اور ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین کے ذریعے مرض کی شدت کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر علاج یا سرجری کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
 
ہیڈ انجری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات معمولی چوٹ صرف وقتی بے ہوشی کا سبب بنتی ہے، لیکن کئی مرتبہ دماغ کے اندر خون جمع ہوجاتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسے مریضوں میں فوری سرجری ناگزیر ہوجاتی ہے۔ اگر مریض بے ہوش ہو، قے آرہی ہو، ناک یا کان سے خون بہہ رہا ہو یا دورے پڑ رہے ہوں تو فوراً اسپتال منتقل کرنا چاہیے کیونکہ بروقت علاج دماغی خلیات کو مزید نقصان سے بچا سکتا ہے۔
 
برین ٹیومر کے بارے میں ڈاکٹر نے بتایا کہ تمام برین ٹیومر کینسر نہیں ہوتے۔ زیادہ تر ٹیومر “بنین” یعنی غیر سرطانی ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں۔ تاہم بعض “میلگننٹ” ٹیومر دوبارہ پیدا ہوسکتے ہیں، جن کے علاج میں سرجری کے بعد ریڈی ایشن ضروری ہوتی ہے۔
 
ڈاکٹر رگھو رام تیجا نے “برین پلاسٹیسٹی” کے تصور پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق دماغ کے بعض حصے متاثر ہونے کے بعد اردگرد کے نروز ان کا کام سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کے لیے فزیوتھراپی بے حد ضروری ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں دماغ کی ریکوری صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ذیابیطس بھی نروز کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ شوگر خون کی باریک رگوں کو متاثر کرتی ہے۔ نروز ایک بار مستقل طور پر خراب ہوجائیں تو ان کی مکمل بحالی مشکل ہوجاتی ہے، اسی لیے بروقت علاج نہایت اہم ہے۔
 
جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اب مائیکرو اسکوپ، اینڈواسکوپک اسپائن سرجری اور نیویگیشن سسٹم کے ذریعے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی سرجری پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہوگئی ہے۔ کئی آپریشن اب چھوٹے سوراخ کے ذریعے کیے جاتے ہیں، جس سے مریض جلد صحت یاب ہوجاتا ہے۔
 
ڈاکٹر نے نیند، متوازن طرزِ زندگی اور فزیوتھراپی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق مسلسل نائٹ شفٹ، کم نیند اور بے ترتیبی دماغی صحت، یادداشت، بلڈ پریشر اور شوگر پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
 
انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ دماغی یا نروس سسٹم سے متعلق علامات کو ہرگز نظرانداز نہ کریں اور فوری ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج کے ذریعے پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔
 
 قارئین آپ ڈاکٹر ڈاکٹر رگھو رام تیجا کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں۔