• News
  • »
  • قومی
  • »
  • نئی دہلی :آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں پروگرام کا اہتمام ،مختلف شعبوں سے منسلک شخصیات کی شرکت،ایران کے ساتھ یکجہتی کا پیغام

نئی دہلی :آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں پروگرام کا اہتمام ،مختلف شعبوں سے منسلک شخصیات کی شرکت،ایران کے ساتھ یکجہتی کا پیغام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 13, 2026 IST

نئی دہلی  :آیت اللہ علی خامنہ ای  کی یاد میں پروگرام کا اہتمام ،مختلف شعبوں سے منسلک شخصیات کی شرکت،ایران کے ساتھ یکجہتی کا پیغام
دہلی میں ایران کے سپریم لیڈر ، آیت اللہ خامنہ ای  کی یاد میں ایک پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔جس میں ہندوستانی اور ایرانی شخصیات سمیت بڑی تعداد میں مختلف شعبوں کے افراد نے شرکت کی۔
 
یہ یادگاری پروگرام ایرانی کلچرل سینٹر میں منعقد ہوا، جہاں ایران اور ہندوستان کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط کو اجاگر کیا  گیااور خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
 
تقریب میں حکومتِ ہند کی نمائندگی وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ ، پابِترا  مارگیریتھا نے کی، جنہوں نے حکومت ہند کی جانب سے تعزیت پیش کرتے ہوئے  آیت اللہ خامنہ ای  کی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے  عبدالمجید حکیم الٰہی نے ایران کی طاقت اور عوامی یکجہتی کو سراہا۔
 
انہوں نے کہا کہ میں بھارت کی حکومت کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے ہمارا ساتھ دیا، ہمارے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اپنی مکمل ہمدردی بھی ظاہر کی۔ آج اس اجتماع میں حکومت کے کئی افسران اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی، جو آیت اللہ  خامنہ ای کی شہادت کا 40واں دن ہے۔ ہم ان سب کے شکرگزار ہیں۔
 
نئی دہلی میں واقع ایرانی کلچرل سینٹر میں منعقدہ اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الٰہی نے کہا کہ یہ موقع ایک ایسے لیڈر کی موت کے 40 دن پورے ہونے کی علامت ہے، جس نے "اپنی پوری زندگی انسانیت اور انصاف کے لیے وقف کر دی ۔
 
ایرانی نمائندے نے مزید کہا کہ بھارتی عوام کا ردعمل مشترکہ اقدار اور انصاف کے لیے باہمی عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں دکھائی گئی یکجہتی پر انہوں نے کہا، بھارت کی عظیم عوام نے وفاداری، دانشمندی اور انصاف کے لیے عزم کا ایک غیر معمولی مثال پیش کی ہے۔
 
واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فوجی حملوں میں 86 سالہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے مغربی ایشیا میں تناؤ کو بڑھا دیا ہے ۔ جس سے عالمی سطح پر معیشت بحران کا سامنا ہے۔