کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے خواتین کے ریزرویشن قانون پرعمل درآمد کے معاملے کو لے کر ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 اپریل کو آل پارٹی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔ اس میٹنگ کا مقصد تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے خواتین کو ریزرویشن دینے کے قانون کے نفاذ پر تفصیلی غور کرنا ہے۔
مرکزی حکومت پرتنقید
بنگلورو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کھرگے نے مرکز پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت نے اس اہم قومی معاملے پر وسیع پیمانے پر مشاورت نہیں کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی خواتین کے ریزرویشن بل کی مکمل حمایت کرتی ہے، لیکن اس کے نفاذ کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع بات چیت ضروری ہے۔
حکومت کےبجائے اپوزیشن کی میٹنگ
کھرگے نے بتایا کہ انہیں مرکز کی جانب سے خط موصول ہوا تھا، جس کا جواب بھی دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کرن رجیجو اور وزیر اعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت تمام جماعتوں کو مدعو کر کے کھلی بحث کی اجازت دے تو کانگریس اس میں بھرپور حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز آل پارٹی میٹنگ بلانے کے لیے تیار نہیں، اسی لیے کانگریس خود یہ قدم اٹھا رہی ہے۔
کانگریس خواتین کےریزرویشن کی حامی
انہوں نے مزید کہا کہ 15 اپریل کی میٹنگ میں جو بھی فیصلے ہوں گے، انہیں باضابطہ طور پر حکومت تک پہنچایا جائے گا۔ کھرگے نے اس بات کو بھی دہرایا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کی حمایت کی ہے اور اس حوالے سے پارٹی کا موقف مستقل رہا ہے۔
کانگریس نے لوکل باڈیزمیں خواتین کو ریزرویشن دیا
انہوں نے سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے برسوں پہلے خواتین کے ریزرویشن کا معاملہ اٹھایا تھا۔ کانگریس صدر کے مطابق کانگریس نے پنچایتوں، ضلع پریشدوں اور میونسپل کارپوریشنز میں پہلے ہی خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کیا ہے، اس لیے پارٹی کو اس معاملے میں سبق دینے کی ضرورت نہیں۔
ویمن ریزرویشن کےلئے اتفاق رائے ناگزیر
انہوں نے زور دیا کہ خواتین کے ریزرویشن جیسے اہم قومی فیصلے اتفاق رائے سے ہونے چاہئیں اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت ناگزیر ہے۔
16سے 18پریل تک پالیمنٹ کا خصوصی اجلاس
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارلیمنٹ کا خصوصی تین روزہ اجلاس 16 سے 18 اپریل تک منعقد ہونے جا رہا ہے، جس میں “ناری شکتی وندن ادھینیم” یعنی خواتین ریزرویشن ایکٹ کے نفاذ سے متعلق ترامیم پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس قانون کو 2029 تک مکمل طور پر نافذ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔