Saturday, April 25, 2026 | 07 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ میں ایک اور سیاسی جماعت کا اضافہ،کویتا نے تلنگانہ راشٹریہ سینا پارٹی کا کیا اعلان

تلنگانہ میں ایک اور سیاسی جماعت کا اضافہ،کویتا نے تلنگانہ راشٹریہ سینا پارٹی کا کیا اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 25, 2026 IST

تلنگانہ میں ایک اور سیاسی جماعت کا اضافہ،کویتا نے تلنگانہ راشٹریہ سینا پارٹی کا کیا اعلان
تلنگانہ میں ایک اور نئی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں آیا ہے۔ سابق ایم ایل سی اور تلنگانہ جاگرتی کی صدر نے اپنی نئی پارٹی کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ میڑچل ضلع کے منیرآباد میں واقع ایک کنونشن میں منعقدہ بڑے جلسے کے موقع پر انہوں نے اپنی پارٹی کا نام تلنگانہ راشٹریہ سینا رکھنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پارٹی پرچم بھی جاری کیا۔ جھنڈے میں پیلے پس منظر پر نیلے رنگ میں تلنگانہ کا نشقہ اور ٹی آر ایس درج ہے۔
 
 واضح رہے کہ کویتا سابق چیف منسٹر و صدر بی آر ایس چندرشیکھر راو کی دختر ہیں اور وہ سابق میں بی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ اور رکن کونسل رہ چکی ہیں ۔ پارٹی نے انہیں گذشتہ سال مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے پارٹی سے برطرف کردیا تھا۔ 
 
 تلنگانہ جاگرتی کے ذریعے سرگرم رہیں کویتا:
 
بی آر ایس سے معطلی کے بعد وہ لگاتار حکومت اور اپوزیشن دونوں پر حملہ آور رہی ہیں اور اب خود کو ایک نئے سیاسی متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ بی آر ایس سے الگ ہونے کے بعد کے. کویتا نے اپنی ثقافتی تنظیم "تلنگانہ جاگرتی" کے بینر تلے عوامی مسائل کو اٹھانا جاری رکھا۔ اس دوران انہوں نے خود کو سماجی اور مفادِ عامہ کے مسائل سے جوڑے رکھا اور لگاتار حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔
 
 بے ضابطگیوں پر لگاتار حملہ آور رہیں:
 
کے. کویتا نے بی آر ایس حکومت کے دوران کئی مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر لگاتار سوال اٹھائے۔ انہوں نے طرزِ حکمرانی کے کام کاج پر سنگین الزامات لگائے اور شفافیت کی کمی کو موضوع بنایا۔
 
 کانگریس اور BRS دونوں کو نشانہ بنایا:
 
کویتا نے صرف اپنی پرانی پارٹی ہی نہیں، بلکہ حکمراں کانگریس کو بھی گھیرا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں ہی پارٹیاں عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہیں اور صرف سیاسی بیان بازی میں لگی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق، حالیہ میٹنگوں میں مفادِ عامہ کے مسائل کے بجائے سیاست زیادہ حاوی رہی۔
 
 عوامی مسائل کی ان دیکھی کا الزام:
 
کے. کویتا نے آر ٹی سی تحریک، پانی کی قلت اور بجلی کی کٹوتی جیسے اہم مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور عام لوگوں کی پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔
 
 مرکز کے مسائل پر بھی اٹھائے سوال:
 
کویتا نے بی آر ایس پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے خواتین کے ریزرویشن بل اور حلقہ بندیوں (Delimitation) جیسے قومی مسائل کو صحیح طریقے سے نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق، ان اہم موضوعات پر پارٹی کی خاموشی سوال کھڑے کرتی ہے۔