جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے واضح کیا ہے کہ نئی دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے لیے احتجاجی منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور یہ احتجاج اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق برقرار رہے گا۔ سرینگر کے (ایس کے آئی سی سی ) میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنما پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران دہلی کا دورہ کریں گے اور جنتر منتر پر احتجاج کر کے مرکز کو اس کا وعدہ یاد دلائیں گے۔
مرکزکویاد دلایا جائے گا وعدہ
نیشنل کانفرنس کی جانب سے ریاستی درجہ کی بحالی کے لئے سیاسی اور جمہوری مہم کو آگے بڑھانے کے لیے دہلی دورہ کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ جموں و کشمیر کے تمام منتخب اراکینِ اسمبلی، اور لیڈرز پارلیمنٹ کے آنے والے مانسون سیشن کے پہلے روز نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتار منتر پر پرامن احتجاج کریں گے۔ اس احتجاج کا بنیادی مقصد مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ، پارلیمنٹ اور دیگر عوامی فورمز پر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرانا ہے۔
دیگر اپوزیشن جماعتوں بھی شامل ہونے کا امکان
وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے 'انڈیا' اتحاد کے اجلاس کے دوران تمام لیڈروں سے ملاقات کی ہے اور ان سے اس احتجاج میں شامل ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ حال ہی میں عمر عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں ریاست کی مالی صورتحال کے ساتھ ساتھ ریاستی درجے کی جلد بحالی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
پی ایم سے ملاقات کے باوجود ہوگا احتجاج
عمر عبداللہ نے حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں ریاست کی بحالی، مالیاتی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر مثبت گفتگو ہوئی۔ ریزرویشن کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ مرکز کی وضاحتوں کے بعد جوابات دوبارہ تیار کر لیے گئے ہیں اور جلد ہی کابینہ سے اس کی منظوری لی جائے گی۔ انہوں نے امرناتھ یاترا کے لیے آنے والے زائرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے پرامن ماحول کی امید ظاہر کی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس ملاقات کے باوجود ان کی پارٹی کے احتجاجی منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور ان کی آئینی شناخت کی واپسی تک یہ جمہوری جدوجہد جاری رہے گی۔
ڈیڑھ سال سے وعدہ پورا نہیں کیا گیا
نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور ایم ایل اے راجپورہ غلام محی الدین میر نے کہا ہے کہ ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود مرکز نے ریاست کی بحالی کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تمام ایم ایل اے پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون سیشن کے دوران دہلی میں دھرنا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے بھی توقع ہے کہ وہ ملک بھر کے سیاسی لیڈروں سے اس مہم میں شامل ہونے اور جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاست کا درجہ بحال ہو کے مطالبے کی حمایت کرنے کی دعوت دینگے۔