Tuesday, February 10, 2026 | 22, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاری میں اپوزیشن

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاری میں اپوزیشن

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 09, 2026 IST

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاری میں اپوزیشن
پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نروین کی غیر مطبوعہ کتاب اور بھارت-امریکی تجارتی معاہدے کے معاملے پر پیر کو بھی ہنگامہ جاری رہا۔ اپوزیشن لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی کی تقریر کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ اسپیکر اوم برلا قواعد کے مطابق بحث کی بات کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے لوک سبھا کو پیر کو دو بار ملتوی کر دیا گیا۔اب خبر ہے کہ اپوزیشن ، اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد پیش کرنے کی منصوبہ بندی میں ہیں۔
 
اپوزیشن ، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بتا دیں کہ ، بجٹ سیشن اپنے آغاز سے ہی ہنگامہ خیز رہا ہے۔ صدر کے خطاب اور شکریہ کی تحریک پر بحث کے بعد ایوان کی کاروائی روز بروز متاثر ہوتی رہی جس سے سپیکر کو ایوان کی کاروائی ملتوی کرنی پڑی۔ اپوزیشن نے اسپیکر پر امتیازی سلوک کا الزام بھی لگایا ہے۔
 
صبح 11 بجے شروع ہونے والی کاروائی بغیر بحث کے دو بار ملتوی:
 
اسپیکر نے صبح 11 بجے لوک سبھا کی کاروائی شروع کی اور سوالوں کے دور (پرسنل آور) میں سوالات اٹھانے کو کہا۔ اس دوران اراکین پارلیمنٹ بحث کا مطالبہ کرنے پر اڑے رہے، جس کے بعد اسپیکر نے کاروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔ دوپہر 12 بجے چیئرمین کرشن پرساد ٹینیٹی نے مرکزی بجٹ پر بحث کے لیے کانگریس کے رکن ششی تھرور کا نام لیا۔ اسی وقت راہل گاندھی کی تقریر کا مطالبہ اٹھا اور ٹینیٹی نے ایوان کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کر دی۔
 
اپوزیشن ناراض، اسپیکر پر جانبداری سمیت کئی الزامات:
 
اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر برلا پر جانبدارانہ رویے کا الزام لگایا ہے اور ان کے خلاف عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے کئی وجوہات بتائی ہیں۔ اراکین کا دعویٰ ہے کہ اسپیکر کے فیصلے مسلسل حکومت کے حق میں رہے ہیں، جس کی وجہ سے اپوزیشن کو کاروائی کو متاثر کرنے کا بہت کم موقع ملا ہے۔ اراکین نے اپوزیشن کی خاتون اراکین کو توہین آمیز رویہ محسوس کرانے کا الزام لگایا ہے اور لیڈر آف اپوزیشن کو بار بار تقریر کا موقع نہ دینے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔