وندے ماترم بل، جسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا گیا ہے، ایک سنگین سیاسی ہنگامہ آرائی کا باعث بن رہا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت کے اس نئے قانون پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کے ملتوی ہونے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے شدید غصے کا اظہار کیا کہ یہ قانون ملک کے آئین کی روح کے خلاف ہے۔
بل کی منظوری پر سخت اعتراض
صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین(اے این آئی اے آئی ایم آئی ایم)اوررکن پارلیمنٹ حیدرآباد، بیرسٹر اسد الدین اویسی نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں قومی عزت کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری پر سخت اعتراض جتایا ۔ انھوں نے وندے ماترم کو قومی ترانے کے مساوی سلوک کرنے کی آئینی بنیاد پر سوال اٹھایا۔
جن گن من اور وندے ماترم کےدرمیان فرق
اویسی نے 'جن گنا من' اور 'وندے ماترم' کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے دلچسپ تبصرے کیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارا قومی ترانہ 'جن گنا من' گایا جاتا ہے تو ہندوستان کا تنوع اور اس کے لوگوں کا اتحاد ہماری آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے۔ جبکہ 'وندے ماترم' عبادت کی ایک مخصوص شکل اور دیوتاؤں کی پوجا کی عکاسی کرتا ہے۔صدر مجلس نےسوال کیا؟ اب آپ ان مجاہدین آزادی کے بارے میں کیا کہیں گے جنہوں نے ملک کے عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کیں؟ ۔
بیرسٹر اویسی نے وندے ماترم گاتےوقت احترام میں کھڑے ہونے کو بھی چیلنج کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اسے مناسب طریقہ کار کے بغیر قومی نغمہ قرار دیا گیا۔
آر ٹیکل 26،25اور29 کی خلاف ورزی
صدر مجلس اویسی نے کہا۔میرا ماننا ہے کہ راجندر پرساد نے 1950 میں ایک بڑی غلطی کی تھی انہوں نے بغیر کسی رسمی قرارداد کے اسے قومی نغمہ قرار دے دیا، جب کہ اس کے لیے ایک قرارداد پاس کی جانی چاہیے تھی۔ قومی گیت کی تعریف کہیں نہیں دی گئی۔ مرکزی حکومت آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 29 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ہنگاموں کےدرمیان بل منظور
یہ بل، جس میں قومی گیت وندے ماترم میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ یا توہین کو مجرمانہ جرم قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے، رام مندر عطیہ کے تنازعہ اور طلباء کے مظاہرین پر پولیس کاروائی پر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے ہنگامے کے درمیان مختصر بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔
بل کی منظوری پر ہونے والی رکاوٹوں کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ششانک منی تریالهی نے مکمل بحث کو روکنے کے لیے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو مورد الزام ٹھہرایا۔بحث کو آگے بڑھانے کے لیے اراکین کو نعرے لگانے کی بجائے ایوان میں موجود رہنا چاہیے، نعرے کیوں لگائے جا رہے ہیں؟ بل کے ارادے کا دفاع کرتے ہوئے۔
بی جے پی کا ردعمل
ترپاٹھی نے اسے گانے کی حیثیت اور ملک کی توانائی دونوں کو بلند کرنے کے مقصد کے طور پر بیان کیا۔یہ ایک اہم بل ہے۔ اس کا مقصد وندے ماترم کو قومی ترانے کی طرح اعزاز دینا اور ہمارے نوجوانوں کی توانائی کو بروئے کار لانا ہے۔ اس کا مقصد وندے ماترم سے وابستہ سجلم سفلم پانی اور فصلوں سے مالا مال کے جذبے کو ابھارنا ہے ملک بھر میں وندے ماترم منسلک ہے؛ اس سے ملک کو نئی توانائی ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی نعرہ بازی نہ ہوتی تو ہم مناسب بحث کر سکتے تھے تاہم ایوان کے بار بار ملتوی ہونے کے بعد ہم مختصر بحث کرنے میں کامیاب ہو گئے اور بالآخر بل کو پاس کرنا پڑا۔