مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ملک کی توانائی کی حفاظت، ضروری اشیاء کی فراہمی اور ریاستوں کی تیاریوں کا ایک اعلیٰ سطحی جائزہ لیا۔
ٹیم انڈیا کے جذبے کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت
ورچوئل میٹنگ میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے تیل اور گیس کے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنائی جانے والی حکمت عملیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے 'ٹیم انڈیا' کے جذبے میں تال میل کے ساتھ کام کرنے کی اپیل کی۔
مغربی ایشیا میں جنگ کا ماحول
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی افواج کے ایران پر حملے کے بعد سے مغربی ایشیا میں جنگ کا ماحول ہے، ایسے خدشات ہیں کہ اس تنازع کا اثر ہندوستان کی توانائی کی درآمدات، کھاد کی سپلائی اور دیگر تجارتی سرگرمیوں پر پڑ سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں وزیر اعظم مودی نے یہ جائزہ لیا۔ انہوں نے وزرائے اعلیٰ کو پٹرول، ڈیزل اور کھانا پکانے والی گیس کی سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہونے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے، بلیک مارکیٹنگ اور مصنوعی قلت کو روکنے جیسے مسائل پر ہدایت کی۔
عوام آدمی پر جنگ کا اثر نہ پڑے: پی ایم
میٹنگ کا مقصد واضح ہے کہ عالمی بحران کے باوجود بھارت میں تیل، گیس اور ضروری اشیاء کی سپلائی متاثر نہ ہو اور عوام کی روزمرہ ضروریات پر کوئی اثر نہ پڑے۔وزیر اعظم نے پہلے ہی عوام کو آگاہ کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران بھارت کے لیے طویل مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ مرکز ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، لیکن ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی اصل ذمہ داری ریاستوں پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے ریاستوں میں انتظامات کریں تاکہ عام آدمی کی ضروری اشیاء پر کوئی اثر نہ پڑے اور یاد دلایا کہ جب ملک بحران میں ہوتا ہے، تو مرکز اور ریاستیں ایک خاندان کی طرح مل کر کام کریں۔
اس میٹنگ میں آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو، تلنگانہ کے سی ایم ریونت ریڈی، اتر پردیش کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ، مہاراشٹر کے سی ایم دیویندر فڑنویس، گجرات کے سی ایم بھوپیندر پٹیل سمیت کئی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ تاہم، تمل ناڈو، مغربی بنگال، آسام، کیرالہ اور پڈوچیری کے وزرائے اعلیٰ نے میٹنگ میں شرکت نہیں کی کیونکہ ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (MCC) نافذ تھا۔ مرکز نے کہا کہ کابینہ سکریٹریٹ متعلقہ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کے ساتھ علیحدہ میٹنگ کرے گا۔