Saturday, April 18, 2026 | 29 شوال 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • پی ایم مودی آج رات کریں گےقوم سے خطاب: کیا ہو گا موضوع؟

پی ایم مودی آج رات کریں گےقوم سے خطاب: کیا ہو گا موضوع؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 18, 2026 IST

پی ایم مودی آج رات  کریں گےقوم سے خطاب: کیا  ہو گا موضوع؟
وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کی رات 8:30 بجے قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔ ان کے خطاب کے موضوع سے متعلق کوئی تصدیق نہیں ہے۔یہ خطاب آئین (131 ویں ترمیم) بل کے صرف ایک دن بعد آیا ہے، جو لوک سبھا میں خواتین کے کوٹہ کو منظور کرنے میں ناکام رہا۔ اس سے پہلے، وزیر اعظم نے کہا تھا کہ بل کی ناکامی ایک "سنگین غلطی" تھی۔

وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ میٹنگ

وزیر اعظم نریندر مودی نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق لوک سبھا میں مرکز کی طرف سے پیش کردہ آئینی ترمیمی بل کی شکست پر گہرے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے بل کے حوالے سے بہت بڑی غلطی کی ہے اور زندگی بھر پچھتائے گی۔ ہفتہ کو وزیر اعظم کی صدارت میں دہلی کے پارلیمنٹ ہاؤس میں مرکزی کابینہ کی میٹنگ ہوئی۔

اپوزیشن کو بھاری قیمت چکانے پڑے گی 

اس میٹنگ میں وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن پارٹیوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے خواتین ریزرویشن بل کی حمایت نہ کرکے بہت بڑی غلطی کی۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ انہیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بل کی مخالفت کرکے اسے چھپانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ انہوں نے پارٹی صفوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہر گاؤں تک پہنچ کر اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ اپوزیشن جماعتیں خواتین کے خلاف ہیں۔

آئین (131 ویں ترمیم) بل کیا تھا؟

آئین (131 ویں ترمیم) بل نے خواتین کے ریزرویشن کے معاملے کو حد بندی کی مشق سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مجوزہ قانون سازی طویل بحث کے بعد ایوان زیریں (لوک سبھا)میں منظور ہونے میں ناکام رہی۔اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ حکومت خواتین ریزرویشن بل کو حد بندی بل سے الگ کرے۔ 

 اپوزیشن حکومت کےفیصلہ سےتھا اختلاف 

بل میں تجویز کیا گیا تھا کہ لوک سبھا کی نشستیں موجودہ 543 سے بڑھا کر 816 کی جائیں گی اور پھر خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کیا جائے گا۔ تاہم اپوزیشن اس انتظام کے لیے تیار نہیں تھی۔

ایک آئینی ترمیمی بل نا منظور 

جب ووٹنگ شروع ہوئی تو 230 ممبران پارلیمنٹ (ایم پیز) نے بل کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 298 نے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم، چونکہ یہ ایک آئینی ترمیمی بل تھا، یہ منظور نہیں ہو سکا۔ کسی بھی آئینی ترمیمی بل کے لیے 2/3 اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ ووٹ دینے والے 528 ارکان میں سے، بل کو منظور ہونے کے حق میں 352 ووٹوں کی ضرورت تھی۔

 پی ایم کی اپیل کو اپوزیشن نےقبول نہیں کیا 

دو دیگر بل، جن میں ایک حد بندی اور لوک سبھا میں نشستوں کی تعداد میں اضافہ بھی شامل ہے، پہلے کے ناکام ہونے کے بعد ووٹنگ میں نہیں ڈالا گیا۔ اس سے پہلے جمعہ کو ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے پی ایم مودی نے اپوزیشن سے اپیل کی تھی کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں اور اپنے ضمیر کی بات سنیں۔ تاہم، ان کی اپیل کو واضح طور پر اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے قبول نہیں کیا۔