• News
  • »
  • فلمیں/ طرززندگی
  • »
  • پانڈوانی کی مشہور گلوکارہ تیجن بائی کا انتقال، وزیر اعظم مودی نےپیش کیا خراجِ عقیدت

پانڈوانی کی مشہور گلوکارہ تیجن بائی کا انتقال، وزیر اعظم مودی نےپیش کیا خراجِ عقیدت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 05, 2026 IST

پانڈوانی کی مشہور گلوکارہ تیجن بائی کا انتقال، وزیر اعظم مودی نےپیش کیا خراجِ عقیدت
 
چھتیس گڑھ کی مشہور پانڈوانی گلوکارہ اور پدم وبھوشن سے نوازے جانے والی تیجن بائی کا اتوار کی صبح رائے پور کے ایمس اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ 70 برس کی تھی۔
 
تیجن بائی کافی عرصے سے علیل تھیں اور 27 مئی سے اسپتال میں زیرِ علاج تھی۔ ایمس رائے پور کے ڈاکٹروں نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ ان کی وفات سے فن و ثقافت کی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کے فینز بھی افسردہ ہیں۔
 
وزیر اعظم مودی نے خراجِ عقیدت پیش کیا
 
وزیر اعظم نریندر مودی نے تیجن بائی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی شاندار فنکاری کے ذریعے چھتیس گڑھ کی لوک روایت پانڈوانی کو پوری دنیا میں پہچان دلائی۔ انہوں نے کہا کہ تیجن بائی کا انتقال فن اور ثقافت کی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ وزیر اعظم نے ان کے اہلِ خانہ اور فینز سے تعزیت بھی کی۔
 
تیجن بائی کون تھیں؟
 
تیجن بائی چھتیس گڑھ کے ضلع درگ کے گنیاری(Ganiyari ) گاؤں کی رہنے والی تھی۔ وہ پانڈوانی گائیکی کی سب سے معروف فنکاروں میں شمار ہوتی تھی۔ انہوں نے اپنی منفرد آواز، شاندار اندازِ بیان اور اداکاری کے ذریعے مہابھارت کی کہانیاں اس انداز میں پیش کیں کہ لاکھوں لوگ ان کے فینز  بن گئے۔
 
جدوجہد سے کامیابی تک کا سفر
 
تیجن بائی کی پیدائش 24 اپریل 1956 کو ہوئی۔ بچپن ہی سے انہیں مہابھارت کی کہانیاں سننے اور سنانے کا شوق تھا۔اس زمانے میں خواتین کے لیے پانڈوانی کے روایتی انداز میں پرفارم کرنا آسان نہیں تھا، لیکن انہوں نے تمام سماجی رکاوٹوں کا مقابلہ کیا اور صرف 13 سال کی عمر میں اپنی پہلی عوامی پیشکش کی۔
 
دنیا بھر میں پانڈوانی کو پہچان دلائی
 
تیجن بائی نے صرف بھارت ہی نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جاپان، روس، آسٹریلیا اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں بھی اپنی فنکاری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی بدولت پانڈوانی کو عالمی سطح پر نئی شناخت ملی۔
 
کئی بڑے اعزازات سے نوازا گیا
 
ہندوستانی لوک فن کے لیے ان کی خدمات کے لیے انہیں کئی بڑے اعزازات دیے گئے، جن میں:
 
پدم شری (1988)
 
سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ (1995)
 
پدم بھوشن (2003)
 
پدم وبھوشن (2019)
 
 
شامل ہیں۔
 
ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی
 
تیجن بائی کے لیے پانڈوانی صرف ایک فن نہیں بلکہ ان کی زندگی تھی۔ انہوں نے تقریباً چھ دہائیوں تک اس روایت کو زندہ رکھا اور نئی نسل کو بھی اس فن سے جوڑا۔
 
اگرچہ تیجن بائی آج ہمارے درمیان نہیں رہیں، لیکن ان کی آواز، فن اور خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔