پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقہ ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں زور دار دھماکہ ہوا جس سے علاقے میں افراتفری مچ گئی ہے۔ دھماکے میں کم از کم 25 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ تھا۔ دھماکہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہوا۔ دھماکے کے بعد پورے شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں۔ راحت اور بچاؤ کام شروع کر دیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور امدادی و بچاؤ کا کام شروع کر دیا گیا۔عہدیداروں کے مطابق، صورتحال کو دیکھتے ہوئے پورے شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ دھماکہ اس وقت پیش آیا جب حال ہی میں بلوچستان میں بلوچ باغیوں نے حملوں میں تیزی لائی ہے۔ دھماکے کے وقت لوگ جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے، جس کے بعد موقع پر شدید افراتفری پھیل گئی۔
واقعے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جن میں زخمی نمازیوں کو چیختے چلاتے مدد مانگتے دیکھا جا سکتا ہے۔اس دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دھماکے کی زد میں آنے والے افراد کے اعضا بکھر گئے۔ اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں نے امام بارگاہ اور آس پاس کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
عہدیداروں نے اسپتالوں میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور زخمیوں کو اسلام آباد کے پولی کلینک اور PIMS ہسپتال میں داخل کرایا جا رہا ہے۔اسلام آباد کے سینیئر پولیس افسران کے مطابق دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیشی ایجنسیاں موقع سے ثبوت اکٹھا کر رہی ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دھماکہ کس طرح اور کن حالات میں ہوا۔مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔