پورنیہ کے ایم پی پپو یادو کے حامیوں اور چاہنے والوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے جمعہ کو ان کے خلاف درج تینوں کیسز میں انہیں ضمانت دے دی۔ تاہم ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جب بھی مقدمات کی سماعت ہوگی تو انہیں خود عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد اب ایم پی کے بیور جیل سے باہر نکلنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ تقریباً چھ دن جیل میں گزارنے کے بعد، اب وہ کسی بھی وقت جیل سے باہر آ سکتے ہیں۔
تین کیسز میں ملی ضمانت:
پپو یادو کو رہائی کے لیے تین الگ الگ مقدمات میں ضمانت لینی پڑی۔ سب سے پہلے انہیں 31 سال پرانے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جس میں انہیں پہلے ہی ضمانت مل چکی تھی۔ تاہم جیسے ہی اس کیس میں راحت ملی، پولیس نے ان پر سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا اور 2017 اور 2019 کے زیر التوا مقدمات میں انہیں ریمانڈ پر لے لیا۔ جمعہ کو پٹنہ سول کورٹ میں سماعت کے دوران ڈیفنس کے وکلاء نے دلیل دی کہ ان کیسز میں الزامات ضمانت کے قابل ہیں اور ایم پی تحقیقات میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عدالت نے ان دلائل کو مان لیا اور تینوں کیسز میں ضمانت دے دی۔
6 فروری کو گرفتار ہوئے تھے پپو یادو:
پپو یادو کی گرفتاری سے لے کر ضمانت تک کا سفر کافی ڈرامائی رہا۔ انہیں 6 فروری کی آدھی رات کو پٹنہ کے منڈیری میں واقع ان کے گھر سے بھاری پولیس فورس نے گرفتار کیا۔ اس کے بعد جب ان کی طبیعت بگڑی تو انہیں پی ایم سی ایچ میں داخل کرایا گیا اور پھر بیور جیل بھیج دیا گیا۔ اس دوران پٹنہ، پورنیہ اور بہار کے دیگر حصوں میں حامیوں نے مسلسل احتجاج کیا۔ راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی جیسے بڑے رہنماؤں نے بھی گرفتاری کو سیاسی سازش قرار دیا۔ حامیوں نے الزام لگایا کہ پٹنہ میں ایک NEET طالب علم کی مشکوک موت پر حکومت کی شدید تنقید کرنے کی وجہ سے پپو یادو کو پرانے مقدمات میں پھنسایا گیا۔
کیا کیا ہوا؟
بتا دیں کہ 6 فروری کو پولیس ٹیم دیر رات پپو یادو کی رہائش گاہ پہنچی،گھنٹوں ہنگامے کے بعد گرفتاری ہوئی۔
7 فروری: طبیعت بگڑنے کی خبر، ہسپتال لے جایا گیا، پھر عدالت میں پیش کیا گیا۔
8 فروری: مختلف شہروں میں حامیوں کا احتجاج۔
9 فروری: عدالت میں بم کی دھمکی ملنے کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی۔
10 فروری: پرانے کیس میں ضمانت مل گئی، لیکن نئے کیس میں معاملہ الجھا ہوا رہا۔
12 فروری: دوسری دفعات میں دوبارہ جوڈیشل کسٹڈی۔
13 فروری: دو دیگر کیسز میں ضمانت مل گئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پپو یادو جیل سے باہر آ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں کس طرح دوبارہ شروع کرتے ہیں اور ان مقدمات کی سماعت میں کیا پیش رفت ہوتی ہے۔