Sunday, February 08, 2026 | 20, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • شمبھو گرلز ہاسٹل سے لے کر بی جے پی لیڈر کے بیٹے تک کے خلاف پپو یادو نے اٹھائے تھے یہ سوال

شمبھو گرلز ہاسٹل سے لے کر بی جے پی لیڈر کے بیٹے تک کے خلاف پپو یادو نے اٹھائے تھے یہ سوال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 08, 2026 IST

شمبھو گرلز ہاسٹل  سے لے کر بی جے پی لیڈر کے بیٹے تک  کے خلاف پپو یادو نے اٹھائے تھے یہ  سوال
پٹنہ کے ایک ہاسٹل میں نیٹ کی تیاری کرنے والی طالبہ کی عصمت دری اور موت کے خلاف آج (اتوار) دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔ اس میں شرکت کے لیے ہفتہ کو جہان آباد سے بڑی تعداد میں لوگ پرائیویٹ گاڑیوں سے دہلی روانہ ہوئے۔ بہار پولیس کے دہلی جانے سے روکنے کی وجہ سے خفیہ طریقے سے متاثرہ کے والدین سمیت بڑی تعداد میں لوگ دہلی کے لیے روانہ ہوئے۔ دہلی جانے سے پہلے متاثرہ کے خاندان نے پپو یادو کی گرفتاری پر کہا کہ جو لوگ میری بیٹی کو انصاف دلانے کی کوشش کر رہے ہیں، پولیس انہیں تنگ کر رہی ہے۔
 
دراصل، پپو یادو پٹنہ میں نیٹ طالبہ کے ریپ کے بعد قتل کے معاملے پر حکومت کے خلاف کھل کر محاذ کھولے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہسپتال سے منسلک کچھ لوگوں کے مبینہ آڈیو کلپس بھی جاری کیے تھے، جن میں علاج میں غفلت کے الزامات لگائے گئے تھے۔
 
لڑکیوں کی سپلائی کا الزام لگایا تھا:
 
پپو یادو نے اس معاملے میں بہار کے ہاسٹلوں میں رہنے والی طالبات کے لیے ایک ہیلپ لائن نمبر جاری کیا تھا۔ نیٹ طالبہ کو انصاف دلانے کے لیے پٹنہسے جہان آباد تک ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں وہ خود شامل ہوئے تھے۔ پپو یادو نے اس معاملے میں ایک وزیر کے بیٹے کی کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔ حکومت پر اسے بچانے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پپو یادو نے شمبھو گرلز ہاسٹل سے لڑکیوں کی سپلائی کا بھی الزام لگایا تھا۔
 
ہاسٹل پر پپو نے لگائے تھے پانچ الزامات
 
نیٹ طالبہ کی موت پر پورنیہ کے سانسد پپو یادو نے دعویٰ کیا تھا کہ شمبھو گرلز ہاسٹل کے چلانے والے منیش کمار رنجن پٹنہمیں سیکس ریکٹ چلاتا تھا۔ وہ ہاسٹل سے کئی بڑے لیڈروں اور افسروں کو لڑکیوں کی سپلائی کرتا تھا۔ سانسد نے یہ بھی کہا تھا کہ ملزم کے موبائل فون اور لوکیشن کا ڈیٹا کی جانچ کیوں نہیں ہو رہی اور پولیس اسے ریمانڈ پر لے کر کیوں نہیں پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پپو یادو نے شمبھو گرلز ہاسٹل کے باہر رات 10 بجے سے صبح 4 بجے تک مہنگی گاڑیوں کے لگنے کی بات کرتے ہوئے ہاسٹل چلانے والوں پر الزام لگایا تھا کہ گرلز ہاسٹلوں سے لڑکیاں آتی جاتی رہتی تھیں، لیکن اس پر بھی انتظامیہ نے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔
 
پولیس کی تفتیش سے پہلے پپو نے ریپ کا انکشاف
 
پپو یادو نے پربھات میموریل کی ایک نرس کا تقریباً 13 منٹ کا بات چیت کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے متاثرہ کے ساتھ ریپ کا الزام لگایا تھا۔ 13 منٹ کے ویڈیو میں نرس نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبہ نے اشاروں میں اپنی ماں کو بتایا تھا کہ اس کے ساتھ غلط ہوا ہے۔ نرس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ہسپتال میں ایک خاتون متاثرہ کی ماں سے ملنے آئی تھی اور علاج کا پورا خرچ اٹھانے کی پیشکش کی تھی۔ جس پر متاثرہ کی ماں نے اس خاتون سے کہا تھا کہ "ہمیں پیسے نہیں، بیٹی چاہیے"۔
 
ایوان کے باہر پوسٹر لے کر پہنچے تھے پپو یادو:
 
پپو یادو نیٹ طالبہ کی موت پر ہاتھوں میں پوسٹر لے کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ پوسٹر پر لکھا تھا، "سی بی آئی تفتیش کرانی ہوگی۔ تفتیش کے نام پر بڑی مچھلی کو بچانا بند کرو۔ اصل گنہگار کو سامنے لاؤ۔ پٹنہ کو سیکس ریکٹ گٹھ جوڑ سے آزادی دینی ہوگی۔ اس دوران پپو یادو نے مرکز اور ریاستی حکومت پر کئی سنگین الزامات لگائے تھے۔ انہوں نے سی بی آئی تفتیش کی مانگ بھی دہرائی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ تفتیش کے نام پر بااثر لوگوں کو بچایا جا رہا ہے، جبکہ متاثرہ کو اب تک انصاف نہیں ملا ہے۔