مسلمانوں کے خلاف مبینہ نفرت انگیز تقریر کو لے کرآسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ ۔روپ ریکھا ورما اور دیگر افراد نے 9 فروری 2026 کو سپریم کورٹ میں ایک درخواست (یعنی کیس) دائر کی ہے، جسے عدالت نے عارضی طور پر ڈائری نمبر 8343/2026 کے تحت درج کیا ہے۔جب عدالت کی رجسٹری یہ جانچ لیتی ہے کہ درخواست میں تمام قانونی تقاضے پورے ہیں (دستاویزات، فیس، فارمیٹ وغیرہ)، تب اسے رجسٹرڈ کیس نمبر دیا جاتا ہے۔ رجسٹرڈ نمبر دیئے جانے کےبعد کیس سماعت کے لیے تیار مانا جاتا ہے۔
درخواست گزاروں کا الزام
درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ ہمانتا بسوا سرما نے بار بار مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں، جو آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 21 کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس سے مذہبی ہم آہنگی کو بگاڑنے اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ درخواست میں عدالت سے سرما کے بیانات کی چھان بین کرنے، ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے اور مستقبل میں اس طرح کی نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کی ہدایت مانگی گئی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند نے بھی دی تھی عرضی
جمعیۃ علماء ہند نے چیف منسٹر ہمنتا بسوا سرما کے بیانات کے بارے میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ تنظیم نے وزیر اعلیٰ کے ریمارکس کو نفرت انگیز تقریر قرار دیا ہے۔ درخواست میں آئینی عہدوں پر فائز افراد کے لیے سخت رہنما اصولوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں آسام کے وزیراعلیٰ کی 27 جنوری 2026 کو دیئے گئے اس بیان کا خصوصی طور پر حوالہ دیا گیا ہے،جس میں ہیمنتا بسوا سرما نے یہ دعویٰ کیا کہ ’’چار سے پانچ لاکھ ’مِیاں‘ ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کیا جائے گا‘‘ اور یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی ’’براہِ راست مِیاؤں کے خلاف ہیں‘‘۔عرضی کے مطابق لفظ’ مِیاں‘ آسام میں مسلمانوں کے لیے تحقیر آمیز اور توہین آمیز انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔
بی جے پی ایکس پر متنازعہ ویڈیو پوسٹ
غور طلب ہے کہ آسام بی جے پی کے ایکس ہینڈل پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا گیا تھا جس میں سی ایم ہمانتا کو مسلمانوں پر رائفل کا نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس معاملے پر ہنگامہ کھڑا ہونے کے بعد ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ اس معاملے نے آسام کی سیاست کو گرما دیا ہے، اور سی ایم سرما کے بیانات پہلے بھی متنازعہ رہے ہیں۔
اویسی نے بھی پولیس میں درج کرائی شکایت
صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم ) بیرسٹراسد الدین اویسی نے پیر کو حیدرآباد پولیس سے شکایت درج کرائی جس میں آسام کے چیف منسٹر ہمانتا بسوا سرما کے خلاف ان کے "تشدد ویڈیو" کے لئے فوری طور پر مجرمانہ کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں انہیں مبینہ طور پر"مسلمانوں کو گولی مارتے" دکھایا گیا ہے۔پولیس کمشنر وی سی سجنار کے پاس سرما کے خلاف "مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی دانستہ اور بدنیتی پر مبنی حرکتوں" کے لیے شکایت درج کراتے ہوئے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے آسام کے وزیر اعلیٰ پر الزام لگایا کہ وہ دو مذہبی برادریوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دے رہے ہیں اور قومی یکجہتی کے لیے خطرہ ہیں۔
مجرمانہ کاروائی کرنے کا پولیس سے مطالبہ
رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ انھوں نے پولیس کمشنر کے پاس ایک شکایت درج کرائی ہے جس میں سرما کے خلاف مجرمانہ کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے "اس کی (اب حذف شدہ) پرتشدد ویڈیو جس میں وہ مسلمانوں کو گولی مارتے ہوئے دکھا رہا ہے"۔اویسی نے پوسٹ کیا۔"بدقسمتی سے، نسل کشی سے متعلق نفرت انگیز تقریر ایک معمول بن گیا ہے،" ۔
ہمانتا بسوا سرما پر کئی مقامات پرشکایتیں درج
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے خلاف اتر پردیش اور گجرات میں کئی شکایتیں درج کرائی گئی ہیں۔ کانگریس کے اقلیتی رہنماؤں کی اس مہم کا مقصد نہ صرف آسام بلکہ پورے ملک میں اس طرح کے پولرائزنگ بیانات کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔