• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سونم وانگچک اسپتال منتقل، کانگریس کا مودی حکومت پر جمہوری حقوق دبانے کا الزام

سونم وانگچک اسپتال منتقل، کانگریس کا مودی حکومت پر جمہوری حقوق دبانے کا الزام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 18, 2026 IST

سونم وانگچک اسپتال منتقل، کانگریس کا مودی حکومت پر جمہوری حقوق دبانے کا الزام
جنتر منتر پر جاری بھوک ہڑتال کے دوران سماجی کارکن سونم وانگچک کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس نے اس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ دہلی پولیس نے واضح کیا کہ یہ اقدام ڈاکٹروں کے مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق کیا گیا۔
 
کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیرا نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، لیکن موجودہ حکومت ان بنیادی جمہوری حقوق کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس براہ راست وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتی ہے اور اگر نئے پولیس کمشنر کی پہلی بڑی کارروائی ایک پرامن احتجاج کو ختم کرنا ہے تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔
 
پون کھیرا نے الزام لگایا کہ حکومت مسلسل پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے خواتین پہلوانوں کے احتجاج کے دوران کارروائی کی گئی، پھر سابق فوجیوں کے مظاہروں پر سختی کی گئی اور اب سونم وانگچک اور دیگر مظاہرین کے خلاف بھی یہی طرز عمل اپنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت احتجاج کو جمہوری حق کے بجائے امن و قانون کا مسئلہ سمجھ رہی ہے۔
 
ادھر دہلی پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ سونم وانگچک کی صحت مسلسل خراب ہو رہی تھی اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ اسی لیے ڈاکٹروں کے مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی مکمل طور پر پرامن انداز میں انجام دی گئی۔
 
اسپتال ذرائع کے مطابق، طویل بھوک ہڑتال اور شدید پانی کی کمی کے باعث وانگچک انتہائی کمزور ہو چکے ہیں۔ ان کی حالت فی الحال مستحکم بتائی جا رہی ہے، تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا ہے کیونکہ طویل روزے کے باعث ان کے جسم پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
 
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ اسپتال منتقل کرنے کے دوران کچھ مظاہرین نے کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس سے مختصر وقت کے لیے افراتفری کی صورتحال پیدا ہوئی، تاہم بعد ازاں حالات پر قابو پا لیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین سے پرامن طور پر جنتر منتر خالی کرنے کی بھی اپیل کی۔
 
دوسری جانب، کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں کچھ وقت کے لیے حراست میں بھی رکھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بھی سونم وانگچک کی حمایت میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کریں گے اور ملک گیر احتجاج کی کال دی۔
 
ادھر طلبہ تنظیم AISA کے مطابق نیہا، امین اور منیش سمیت کئی طلبہ اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹروں نے ان کی صحت پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ نیہا کا بلڈ شوگر خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے، امین شدید پانی کی کمی کا شکار ہیں جبکہ منیش کا وزن دس کلوگرام سے زیادہ کم ہو چکا ہے۔
 
واضح رہے کہ سونم وانگچک گزشتہ کئی ہفتوں سے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی صحت متاثر ہوئی ہے، لیکن وہ طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔