Sunday, February 22, 2026 | 04 رمضان 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • حمل کے دوران عام غلط فہمیاں اور ضروری احتیاطی تدابیر

حمل کے دوران عام غلط فہمیاں اور ضروری احتیاطی تدابیر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 21, 2026 IST

حمل کے دوران عام غلط فہمیاں اور ضروری احتیاطی تدابیر
 منصف ٹی وی کے خاص پروگرام ہیلتھ اورہم میں ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر شری لکشمی برہماندم نے حمل سے متعلق عام پائے جانے والے تصورات، احتیاطی تدابیر اور بعد از زچگی دیکھ بھال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حمل صرف ماں اور بچے کا جذباتی رشتہ نہیں بلکہ پورے خاندان کی مشترکہ ذمہ داری اور خوشی کا سفر ہوتا ہے۔
 
ڈاکٹر کے مطابق پہلی بار ماں بننے والی خواتین کو سب سے پہلے ایک مستند ڈاکٹر کا انتخاب کرنا چاہیے اور پورے نو ماہ اسی ڈاکٹر کے زیر نگرانی رہنا چاہیے۔ بار بار ڈاکٹر تبدیل کرنے سے طبی تاریخ کا تسلسل متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ حمل کی منصوبہ بندی سے دو سے تین ماہ قبل فولک ایسڈ کا استعمال شروع کر دینا چاہیے تاکہ بچے میں پیدائشی نقائص کے امکانات کم ہوں۔
 
غذا کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ “دو افراد کا کھانا” ایک عام مگر غلط تصور ہے۔ ضرورت متوازن غذا کی ہے جس میں سبز پتوں والی سبزیاں، پھل، پروٹین، گریاں اور فائبر شامل ہوں جبکہ فاسٹ فوڈ سے حتی الامکان پرہیز کیا جائے۔ کام کرنے والی خواتین کے لیے ہفتہ وار ڈائٹ پلان مفید رہتا ہے۔
ذہنی صحت کو بھی انہوں نے انتہائی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق عبادت، مطالعہ، مراقبہ یا ہلکی موسیقی ذہنی سکون فراہم کرتی ہے، جو حمل کے دوران ماں اور بچے دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
 
الٹراساؤنڈ سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے تحت کیا جانے والا اسکین محفوظ ہے اور اس سے ماں یا بچے کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ نارمل حمل میں عموماً دو سے چار اسکین کافی ہوتے ہیں، تاہم اگر حمل کو ہائی رسک قرار دیا جائے تو معائنے کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
 
ہائی رسک حمل میں 35 سال سے زائد عمر، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، تھائیرائیڈ، یا موٹاپا شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر خاندان میں شوگر یا بلڈ پریشر کی تاریخ ہو تو خواتین کو پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ حمل کے دوران اچانک وزن میں غیر معمولی اضافہ، پیروں میں سوجن، شدید سر درد یا نظر کی دھندلاہٹ بلڈ پریشر کی علامات ہو سکتی ہیں، جنہیں ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
 
ڈاکٹر نے مڈ نائٹ کریونگز سے متعلق بھی وضاحت کی کہ کبھی کبھار میٹھا یا چٹپٹا کھانے کی خواہش معمول کی بات ہے، لیکن مسلسل بھوک لگنا یا زیادہ کھانے کی طلب ذیابیطس کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسے میں فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔بعد از زچگی دور کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی اتنا ہی اہم مرحلہ ہے جتنا حمل۔ پیدائش کے فوراً بعد آنے والا زرد رنگ کا دودھ (کولوسٹرم) بچے کے لیے انتہائی مفید اور مدافعتی نظام مضبوط بنانے میں مددگار ہوتا ہے، اس لیے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ بچے کو مقررہ اوقات کے بجائے “ڈیمانڈ فیڈ” دینا بہتر ہے۔
 
آخر میں انہوں نے زور دیا کہ حمل ایک قدرتی عمل ہے مگر درست معلومات، متوازن غذا، باقاعدہ معائنہ اور مثبت طرزِ فکر اسے محفوظ اور خوشگوار بنا سکتے ہیں۔ ہر عورت کا جسم مختلف ہوتا ہے، اس لیے اپنی کیفیت کو سمجھنا اور بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ ڈاکٹر شری لکشمی برہماندم کی مکمل بات چیت آپ  یہاں دیکھ سکتے ہیں۔