امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے تنازعہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک عارضی ضرورت ہے۔ تاہم ٹرمپ نے کہاکہ ایران کے جوہری خطرے کو بے اثر کرنا زیادہ اہم ہے۔ ٹرمپ نے کہاکہ جب تنازعہ حل ہو جائے گا اور خطرہ بے اثر ہو جائے گا تو توانائی کی قیمتیں تیزی سے گریں گی۔ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اولین ترجیح ہے جو کہ تیل کی قیمتوں میں قلیل مدتی اضافے کے مقابلے میں بہت زیادہ ضروری ہے۔
اس دوران امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو پسند نہیں کرتے اور نہ ہی مجھے یہ سب کچھ پسند ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہاکہ ہماری ترجیح امریکیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور توانائی کی آزادی کے ذریعے قیمتوں کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ تیل کی قیمتوں کو کم کرنے کیلئے مختلف اقدامات پر غور کررہے ہیں کیونکہ انہیں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پسند نہیں ہیں۔ جے ڈی وینس نے کہاکہ ہماری اولین ترجیح امریکیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
کیوبا امریکہ مذاکرات :
کیوبا کے صدر نے امریکی مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیوبا نے امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ کیریبین ملک نے پہلی بار ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے بارے میں وسیع قیاس آرائیوں کی تصدیق کی ہے کیونکہ یہ توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔صدر نے کہاکہ بات چیت کا مقصد ہماری دونوں قوموں کے درمیان دوطرفہ اختلافات کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا تھا۔ انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی عوامل نے ان تبادلوں میں سہولت فراہم کی۔ واضح رہے کہ امریکہ کے ساتھ کیوبا کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں اور سابق صدر براک اوباما کے دوسرے دور حکومت کے دوران ایک مختصر میل جول کو چھوڑ کر دشمنی کا شکار ہیں۔