نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ 26 اگست کو ایوانِ نمائندگان کے اجلاس میں ارکانِ پارلیمنٹ کے براہ راست سوالات کے جواب دیں گے۔ اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان کو وزیراعظم سے ملکی اور بین الاقوامی امور سے متعلق سوالات کرنے کا موقع ملے گا۔ ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر دیو راج آریال نے ایوان کو اس حوالے سے باضابطہ اطلاع دی ہے۔ اسپیکر کے مطابق، ایوانِ نمائندگان کے قواعد 2026 کے باب 9 کے تحت 26 اگست کے اجلاس میں وزیراعظم کے ساتھ براہِ راست سوال و جواب کا سیشن مقرر کیا گیا ہے۔ اسپیکر نے بتایا کہ ایوان میں موجود ہر سیاسی جماعت کے کم از کم ایک رکن کو وزیراعظم سے سوال پوچھنے کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے ارکانِ پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ مقررہ وقت کا خیال رکھتے ہوئے اپنے سوالات مختصر، واضح اور براہِ راست رکھیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ ارکان کو سوال کرنے کا موقع مل سکے۔
وزیراعظم کے متنازع بیان پر بھی سوالات متوقع
وزیراعظم بالیندر شاہ کی پارلیمنٹ میں پیشی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اپوزیشن جماعتیں ان کے ایک سابقہ بیان پر وضاحت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ 31 مئی کو ایوان میں دیے گئے اپنے بیان میں وزیراعظم شاہ نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ "نیپال نے بھی ہندوستانی سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔" اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی تھی اور اپوزیشن نے وزیراعظم سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی تھی۔اب 26 اگست کے سوال و جواب کے سیشن میں وزیراعظم سے اس بیان کے حوالے سے بھی سوالات کیے جانے کا امکان ہے۔ خاص طور پر ہند-نیپال سرحد، سرحدی علاقوں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سے متعلق امور ایوان میں زیر بحث آ سکتے ہیں۔اپوزیشن ارکان وزیراعظم سے یہ جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ ان کے بیان کا پس منظر کیا تھا اور حکومت سرحدی تنازعات کے حل کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
پارلیمانی احتساب کے لیے اہم موقع
وزیراعظم کا براہِ راست سوال و جواب کے لیے ایوان میں موجود ہونا پارلیمانی نظام میں حکومت سے جواب طلب کرنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران ارکان کو عوام سے متعلق مسائل اور حکومت کی پالیسیوں پر براہِ راست وزیراعظم کا موقف جاننے کا موقع ملتا ہے۔26 اگست کا اجلاس اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی حساس معاملات پر براہِ راست سوال و جواب متوقع ہیں۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وزیراعظم بالیندر شاہ اپوزیشن کے سخت سوالات کا کس انداز میں جواب دیتے ہیں اور ہند-نیپال سرحد سے متعلق اپنے سابقہ بیان پر کیا وضاحت پیش کرتے ہیں۔