• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سونم وانگچک معاملہ: پرینکا چترویدی کا بی جے پی حکومت پر حملہ

سونم وانگچک معاملہ: پرینکا چترویدی کا بی جے پی حکومت پر حملہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 18, 2026 IST

سونم وانگچک معاملہ: پرینکا چترویدی کا بی جے پی حکومت پر حملہ
دہلی کے جنتر منتر پر جاری بھوک ہڑتال کے دوران سونم وانگچک کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے پر سیاسی ردعمل مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کی سابق رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کی کارروائی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے بجائے پولیس کارروائی کو ترجیح دی۔
 
پرینکا چترویدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اگر حکومت واقعی مسئلے کا حل چاہتی تو کسی مرکزی وزیر کو سونم وانگچک سے بات چیت کے لیے بھیجتی، لیکن اس کے بجائے دہلی پولیس کو بھیجا گیا۔ انہوں نے لکھا کہ عوام اس رویے کو آسانی سے فراموش نہیں کریں گے۔
 
انہوں نے سونم وانگچک کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وانگچک جلد صحت یاب ہوں تاکہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھ سکیں۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے سونم وانگچک کو "قربانی کا بکرا" نہیں بنایا جانا چاہیے۔
 
واضح رہے کہ سونم وانگچک 28 جون سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے۔ ان کی صحت مسلسل خراب ہونے کے بعد دہلی پولیس نے انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق کی گئی تاکہ انہیں بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
 
اب تک سونم وانگچک کی جانب سے اسپتال منتقل کیے جانے یا سیاسی بیانات پر کوئی نیا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق وہ طبی نگرانی میں ہیں اور ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
 
دوسری جانب، CJP کے سربراہ ابھیجیت ڈپکے نے الزام لگایا ہے کہ دہلی پولیس نے کارروائی کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس واقعے کے خلاف خود بھی جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
 
ابھیجیت ڈپکے نے واضح کیا کہ احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا اور تنظیم پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مطالبات کے حق میں جاری رہے گا۔
 
یاد رہے کہ سونم وانگچک نے اسپتال منتقل کیے جانے سے قبل ایک ویڈیو پیغام میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ 20 جولائی کو ہونے والے "چلو پارلیمنٹ" مارچ میں شرکت کریں اور طلبہ کے مطالبات کی حمایت کریں۔
 
سونم وانگچک کی صحت، پولیس کی کارروائی اور اس پر بڑھتی ہوئی سیاسی تنقید نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ حکومت، اپوزیشن اور احتجاجی تنظیموں کے درمیان لفظی جنگ بھی تیز ہوتی جا رہی ہے۔