مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے بھوج شالہ-کمال مولا کمپلیکس کو ایک مندر کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد، اتوار کو دھار میں واقع اس تاریخی مقام پر عقیدت مندوں نے دیوی سرسوتی کی تصویر رکھ کر پوجا ارچنا کی۔
بھوج شالہ مکتی یگیہ کے کنوینر گوپال شرما نے لندن میوزیم سے دیوی سرسوتی کی اصل مورت کو فوری طور پر واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دیوی سرسوتی کی اصل مورتی اس علاقے میں واپس نہیں آ جاتی، تب تک کمپلیکس میں نصب یہ علامتی تصویر ہی پوجا کا مرکز رہے گی۔
لندن سے مورتی واپس لانے کی ہدایت:
گوپال شرما نے بتایا،ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ (دیوی واگدیوی کی) مورتی کو لندن سے واپس لایا جائے۔ اس کمپلیکس کو آخر کار مندر قرار دے دیا گیا ہے اور ہم اس مورتی کو یہاں نصب کریں گے، لیکن تب تک یہ علامتی مورت یہیں رہے گی۔اس سے قبل، ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ متنازعہ یادگار کی مذہبی نوعیت بھوج شالا، یعنی دیوی سرسوتی کے مندر کی ہی ہے۔
اے ایس آئی (ASI) کا 2003 کا حکم نامہ منسوخ:
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ متنازعہ علاقے کی مذہبی حیثیت بھوج شالا یعنی دیوی سرسوتی کا مندر ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کے 2003 کے اس انتظام کو منسوخ کر دیا جس کے تحت:بھوج شالا کمپلیکس کے اندر ہندوؤں کے پوجا کرنے کے حق کو محدود کیا گیا تھا اور مسلم برادری کو جمعہ کے دن نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی۔
عدالت نے ہدایت دی کہ مرکزی حکومت اور ASI بھوج شالا مندر کے انتظام و انصرام (ایڈمنسٹریشن) کے بارے میں فیصلے کریں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ASI، 'اے ایس آئی ایکٹ 1958' کے تحت اس محفوظ یادگار پر مذہبی رسومات کے تحفظ، دیکھ بھال اور ضابطے پر اپنا مجموعی کنٹرول برقرار رکھے گا۔
مسلم فریق کو مسجد کے لیے متبادل زمین کی پیشکش:
ہندو فریق کی اس یچکا پر جس میں لندن سے مورتی واپس لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، عدالت نے کہا کہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو پہلے ہی متعدد درخواستیں دی جا چکی ہیں۔
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے کہا کہ اگر مسلمان فریق درخواست کرے تو دھار ضلع میں انہیں مسجد کے لیے متبادل زمین الاٹ کرنے پر غور کیا جائے۔
سپریم کورٹ میں 'کیویٹ'عرضیاں دائر:
ایم پی ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں دو کیویٹ (Caveat) درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں۔ یہ اقدام اس خدشے کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے کہ مسلم فریق ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتا ہے۔
ہائی کورٹ میں ہندو فریق کے وکیل جتیندر سنگھ ویسین نے کیویٹ پٹیشن دائر کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کسی بھی چیلنج پر سپریم کورٹ کوئی بھی حکم جاری کرنے سے پہلے ان کا مؤقف لازمی سنے۔
اس معاملے میں ہندو فریق کے اہم درخواست گزار نے معروف وکیل وشنو شنکر جین کے ذریعے ایک اور کیویٹ دائر کی ہے، جس میں عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ کیویٹ دائر کرنے والوں کو سنے بغیر کوئی یکطرفہ حکم پاس نہ کیا جائے۔
کیا ہے تنازع:
بھوج شالہ تنازع طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ ہندو فریق اسے دیوی سرسوتی کا قدیم مندر مانتا ہے جبکہ مسلمان فریق اسے کمال مولا مسجد مانتاہے۔ 2003 میں ASI کے معاہدے کے تحت ہفتے کے دن مختلف اوقات میں دونوں برادریوں کو الگ الگ عبادت کی اجازت تھی۔ اب ہائی کورٹ کے فیصلے نے اسے مندر قرار دے کر ہندو فریق کو بڑی قانونی فتح دلائی ہے۔دوسری جانب مسلمان فریق اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔