منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Viral Infections" کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی گفتگو پیش کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر کیشون، کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ، اپولو ہاسپٹلس، حیدرگڈہ، حیدرآباد نے وائرل انفیکشنز کی عام علامات، پھیلاؤ کے طریقوں، احتیاطی تدابیر اور علاج کے حوالے سے ناظرین کو مفید معلومات فراہم کیں۔
وائرل انفیکشنز روزمرہ زندگی کا ایک عام حصہ
گفتگو کے دوران ڈاکٹر کیشون نے بتایا کہ وائرل انفیکشنز ہماری روزمرہ زندگی کا ایک عام حصہ ہیں اور موسم کی تبدیلی، خاص طور پر بارش اور سردی کے دوران ان کے کیسز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ نزلہ، زکام، فلو، گلے کی خرابی، کھانسی اور بعض سانس کی بیماریاں وائرس کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ زیادہ تر وائرل انفیکشن چند دنوں میں خود بہتر ہو جاتے ہیں، تاہم کچھ افراد میں یہ سنگین شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
وائرس کیسے منتقل ہوتا ہیں
انہوں نے بتایا کہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص تک مختلف طریقوں سے منتقل ہوتے ہیں۔ متاثرہ فرد کے کھانسنے یا چھینکنے سے نکلنے والے ذرات، آلودہ ہاتھوں یا سطحوں کو چھونے اور قریبی میل جول سے انفیکشن پھیل سکتا ہے۔ اسی لیے بھیڑ والی جگہوں پر احتیاط، ہاتھوں کی صفائی اور کھانستے یا چھینکتے وقت منہ ڈھانپنے کی عادت انتہائی اہم ہے۔
وائرل انفیکشن کی علامات
علامات کے بارے میں ڈاکٹر نے کہا کہ بخار، کھانسی، نزلہ، گلے میں درد، جسم میں درد، سر درد، تھکن اور بھوک میں کمی عام علامات ہیں۔ بعض وائرل انفیکشنز میں سانس لینے میں دشواری بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر بزرگ افراد، چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور ان لوگوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا جنہیں پہلے سے پھیپھڑوں، دل یا دیگر دائمی بیماریاں لاحق ہیں۔
اینٹی بایوٹک استعمال کرنا درست نہیں
ڈاکٹر کیشون نے اس بات پر زور دیا کہ ہر بخار یا کھانسی کے لیے اینٹی بایوٹک استعمال کرنا درست نہیں۔ اینٹی بایوٹکس بیکٹیریا کے خلاف کام کرتی ہیں، وائرس کے خلاف نہیں۔ اس لیے بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے اینٹی بایوٹک لینا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ مستقبل میں Antibiotic Resistance کا مسئلہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریض کو مناسب آرام، پانی اور دیگر سیال چیزوں کا استعمال اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق علامات کا علاج کرنا چاہیے۔
وائرل انفیکشنز سے بچاؤ کیسے کریں
انہوں نے وائرل انفیکشنز سے بچاؤ کے لیے ہاتھ بار بار دھونے، ذاتی صفائی کا خیال رکھنے، مناسب نیند لینے، متوازن غذا استعمال کرنے اور بیمار افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں دستیاب ہو، متعلقہ بیماریوں کے خلاف تجویز کردہ ویکسینیشن کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر نے کس بات پر زور دیا؟
پروگرام کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سانس میں شدید دشواری، مسلسل تیز بخار، سینے میں درد، غیر معمولی کمزوری، الجھن یا آکسیجن کی سطح کم ہونے جیسی علامات کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
احتیاط اور علامات پر نظر رکھنا بہت ضروری
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر کیشون نے کہا کہ زیادہ تر وائرل انفیکشنز سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، لیکن احتیاط اور علامات پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ بروقت طبی مشورہ، مناسب آرام اور صحت مند طرزِ زندگی نہ صرف بیماری سے جلد صحت یابی میں مدد دیتے ہیں بلکہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
قارئین ڈاکٹر کیشوان، پلمونولوجسٹ، کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اور صحت سے جڑے کسی بھی معاملے پر دیگر ویڈیوز منصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔