منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Pneumonia & Vaccination" کے موضوع پر ایک اہم معلوماتی نشست پیش کی گئی۔ اس پروگرامیں ڈاکٹر سید عبدالعلیم، سینئر پلمونولوجسٹ، گرونانک کیئر ہاسپٹلس، مشیرآباد، حیدرآباد نے نمونیا کی وجوہات، علامات، خطرات، بروقت علاج اور ویکسینیشن کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس پروگرام کو پیش کرنے کا مقصد عوام میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور یہ بتانا تھا کہ احتیاط اور بروقت طبی مشورہ کئی جان لیوا پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے۔
نمونیا صرف ایک عام انفیکشن نہیں بلکہ پھیپھڑوں کی سنجیدہ بیماری
گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر سید عبدالعلیم نے کہا کہ نمونیا صرف ایک عام انفیکشن نہیں بلکہ پھیپھڑوں کی ایک سنجیدہ بیماری ہے، جس میں پھیپھڑوں کے ہوا سے بھرے چھوٹے تھیلے (Alveoli) سوزش کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان میں رطوبت یا پیپ جمع ہونے لگتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض کو سانس لینے میں دشواری، تیز بخار، کھانسی، سینے میں درد اور شدید کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔
کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے نمونیہ
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ نمونیا کسی بھی عمر کے فرد کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن پانچ سال سے کم عمر بچے، 65 سال سے زائد عمر کے افراد، حاملہ خواتین، ذیابیطس، دل، گردوں یا پھیپھڑوں کے دائمی امراض میں مبتلا مریض اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد اس بیماری کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
درست تشخیص کے بعد ہی مناسب علاج
ڈاکٹر عبدالعلیم نے واضح کیا کہ نمونیا وائرس، بیکٹیریا یا بعض اوقات فنگس کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، اس لیے ہر مریض کا علاج ایک جیسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خود سے اینٹی بایوٹک ادویات استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے ادویات کے خلاف مزاحمت (Antibiotic Resistance) پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ درست تشخیص کے بعد ہی مناسب علاج شروع کیا جانا چاہیے۔
نمونیا سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسینز
ویکسینیشن کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید طبی تحقیق نے نمونیا سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسینز فراہم کی ہیں۔ نیوموکوکل ویکسین (Pneumococcal Vaccine) اور سالانہ انفلوئنزا ویکسین خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ ان ویکسینز سے نہ صرف نمونیا کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ بیماری کی شدت اور اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت بھی نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔
کیا کریں اور کیا نہ کریں
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز، متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش، ہاتھوں کی صفائی اور آلودہ ماحول سے بچاؤ پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کھانسی کے ساتھ تیز بخار، سانس پھولنا، سینے میں درد یا آکسیجن کی سطح کم ہونے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اسپتال سے رجوع کرنا چاہیے۔
نمونیا ایک قابلِ علاج بیماری
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر سید عبدالعلیم نے ناظرین کو یہ پیغام دیا کہ نمونیا ایک قابلِ علاج بیماری ہے، بشرطیکہ اس کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ بزرگوں اور دائمی امراض کے شکار افراد کے لیے بھی یکساں اہم ہے۔ ان کے مطابق احتیاط، بروقت ویکسین، صحت مند طرزِ زندگی اور ماہر ڈاکٹر سے فوری مشورہ ہی نمونیا سے محفوظ رہنے کا بہترین راستہ ہے۔
قارئین آپ ماہر امراض تنفس ڈاکٹر سیدعبد العلیم کی اس ویڈیو یہاں👇 دیکھ سکتےہیں۔ اور ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر دیگرامراض پر مشتمل ماہر ڈاکٹرز کے کئی ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔