روس کے صدر ولادیمیر پوتن منگل کی رات دو روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں، جہاں دارالحکومت بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے فوراً بعد ہونے والے اس دورے پر دنیا بھر کے ممالک کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ صدر پوتن یہ دورہ چینی صدر شی جن پنگ کی خصوصی دعوت پر کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بیجنگ ایئرپورٹ پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے روسی صدر کا استقبال کیا۔
چینی وزارت خارجہ کا بیان:
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ولادیمیر پوتن اس دورے کے دوران شی جن پنگ کے ساتھ روس چین تعلقات، دوطرفہ تجارت، اسٹریٹجک تعاون اور موجودہ عالمی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اپنے اس دورے میں روسی صدر چین کے وزیر اعظم لی کیانگ سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گوؤ جیاکون نے اس دورے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ یہ صدر پوتن کا 25 واں سرکاری دورۂ چین ہے۔ ترجمان نے دونوں سپر پاورز کے درمیان گہرے اسٹریٹجک اتحاد اور دونوں رہنماؤں کے مضبوط ذاتی تعلقات پر خصوصی زور دیا۔
روس چین تعلقات پر صدر پوتن کا اہم بیان:
روس-چین دو طرفہ تعاون کے اہم اہداف کو اجاگر کرتے ہوئے پوتن نے کہا، "ہم مل کر وہ سب کچھ کر رہے ہیں جس سے ہمارا باہمی تعاون مزید گہرا ہو سکے اور دونوں ممالک کی جامع ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ ترجیحات بیجنگ میں ہونے والی بات چیت کے ایجنڈے کو واضح طور پر متعین کریں گی۔
اپنے میزبان کے لیے اظہار تشکر کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ وہ صدر شی کی روس کے ساتھ طویل مدتی تعاون کی وابستگی کی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ "ہمارے دوستانہ تعلقات ہمیں مستقبل کے لیے بڑی منصوبہ بندی کرنے اور انہیں کامیابی سے عملی جامہ پہنانے کے قابل بناتے ہیں۔"
امریکہ اور روس کے درمیان توازن قائم کرنے کی چینی کوشش:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے فوری بعد ولادیمیر پوتن کی چین آمد کو جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) ماہرین انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ،چین اس وقت امریکہ اور روس دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین اور ایران کے تنازعات کی وجہ سے عالمی سطح پر کشیدگی عروج پر ہے۔ماہرین کے مطابق، چین کے پاس اس وقت ایک بہترین موقع ہے کہ وہ امریکہ اور روس دونوں کے ساتھ متوازی (ساتھ ساتھ) بات چیت کر کے عالمی سطح پر ایک انتہائی اہم ثالث اور رہنما کا کردار ادا کرے۔