ڈھاکہ میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق سے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر کے مصافحے پر پاکستانی ماہر قمر چیمہ نے سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھارتی کرکٹرز کو پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہاتھ ملانے کی اجازت نہیں ہے تو پھر جے شنکر کیسے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ جے شنکر 31 دسمبر کو بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ڈھاکہ گئے تھے، جہاں ان کی ملاقات ایاز صادق سے بھی ہوئی۔
قمر چیمہ نے کہا کہ پاکستان کے اندر ایک بحث چل رہی ہے کہ اگر بھارتی کرکٹرز ایشیا کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کے ہاتھ سے ٹرافی نہیں لے سکتے تو جے شنکر نے پاکستانی اسپیکر سے ہاتھ کیوں ملایا؟ یہی سوال ہے، اور مجھے اس سوال کا جواب چاہیے۔
ستمبر میں ہونے والی ایشیا ورلڈ کپ چیمپئن شپ کی میزبانی پاکستان نے کی تھی، لیکن بھارتی ٹیم نے پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا اور بھارت کے میچ دبئی میں ہوئے۔ اس دوران بھارتی کرکٹرز نے نہ پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملایا اور نہ ہی چیمپئن شپ جیتنے کے بعد محسن نقوی سے ٹرافی لی۔ عام طور پر میچ شروع ہونے سے پہلے اور بعد میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ اپریل میں پہلگام حملے اور مئی میں ہونے والے آپریشن سندور کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خاصا تناؤ بڑھ گیا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی میچ کے دوران بھی آپریشن سندور میں ملی شکست پر اپنی جھنجھلاہٹ نکالتے نظر آئے تھے۔ پھر جب کرکٹ کے میدان میں بھی انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا تو وہ مزید بوکھلائے ہوئے دکھائی دیے۔
قمر چیمہ نے الزام لگایا کہ آیا یہ بھارت کا ڈبل اسٹینڈرڈ ہے یا کوئی ڈبل گیم۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گیم، یہ ہے کہ جب کرکٹرز پاکستانیوں سے ہاتھ نہیں ملاتے تو عوام تک یہ پیغام جاتا ہے کہ ہم نے ان کے ہاتھ سے ٹرافی نہیں لی، ہم ان کے ہاتھ سے کچھ نہیں لینا چاہتے، یہ اس قابل ہی نہیں ہیں۔ ہم نے تو ان کے ساتھ جینا مرنا، کھانا پینا سب بند کر دیا ہے۔ یہ کون ہو تے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ لیکن اگر جے شنکر پاکستانی قومی اسمبلی کے اسپیکر سے ہاتھ ملا لیں تو یہ بھارتی عوام کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں بنتا۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے بھارت کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ گوا گئے تو جے شنکر نے ان سے ہاتھ نہیں ملایا، کیونکہ وہ اپنی عوام کو ایک پیغام دینا چاہتے تھے۔