Tuesday, May 19, 2026 | 01 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • نیدرلینڈ میں بھارتی میڈیا کی آزادی اور اقلیتوں پر اٹھے سوال

نیدرلینڈ میں بھارتی میڈیا کی آزادی اور اقلیتوں پر اٹھے سوال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 18, 2026 IST

 نیدرلینڈ میں بھارتی میڈیا کی آزادی اور اقلیتوں پر اٹھے سوال
وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ نیدرلینڈز کے دوران ڈچ (نیدرلینڈز کے) صحافیوں کی جانب سے بھارتی میڈیا کی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا، جسے حکومت ہند نے سختی سے مسترد کر دیا ۔ وزارت خارجہ کے سکریٹری سبی جارج نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اس طرح کے خدشات بھارت کی تاریخ، جمہوریت اور ثقافتی تنوع (ڈائیورسٹی) کے بارے میں 'سمجھ کی کمی' کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ایک متحرک جمہوریت ہے۔
 
 معاملہ کیا ہے؟
 
وزیر اعظم مودی کے دو روزہ دورے کے دوران ایک ڈچ صحافی نے سوال اٹھایا کہ اس دورے میں مشترکہ پریس کانفرنس کیوں نہیں رکھی گئی؟ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھارت میں پریس کی آزادی اور مسلم برادری سمیت دیگر اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔
 
ڈچ اخبار 'ڈی وولکس کرانٹ ' کی رپورٹ کے مطابق، نیدرلینڈز کے وزیر اعظم راب جیٹین نے بھی مودی سے ملاقات سے قبل مبینہ طور پر کہا تھا کہ ڈچ حکومت بھارت میں پریس کی آزادی اور اقلیتی حقوق کے معاملے پر فکر مند ہے۔
 
 بھارتی حکومت کا کرارا جواب:
 
ان تمام خدشات کا جواب دیتے ہوئے سبی جارج نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی جڑیں بہت گہری ہیں اور وہاں مذہبی بقائے باہمی (ساتھ رہنے) کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پریس کی آزادی اور اقلیتوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا،یہ سوالات بھارت کے بارے میں معلومات اور سمجھ کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جو ثقافت، زبانوں، کھان پان اور مذاہب کے لحاظ سے بے پناہ تنوع رکھتا ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے چار بڑے مذاہب،ہندو، بدھ، جین اور سکھ،بھارت کی دھرتی پر پیدا ہوئے اور آج بھی وہاں پوری آزادی کے ساتھ پھل پھول رہے ہیں۔
 
 جمہوریت سے سمجھوتہ کیے بغیر معاشی ترقی
 
سبی جارج نے اپنے بیان میں زور دیا کہ بھارت نے اپنے جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر معاشی ترقی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا،ہم نے غربت کے خاتمے کے لیے تشدد کا سہارا نہیں لیا، بلکہ جمہوری عمل کا راستہ اپنایا۔جب بھارت آزاد ہوا تھا، تب ملک میں اقلیتی آبادی 11 فیصد تھی۔ آج یہ بڑھ کر 20 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ دنیا کا کوئی ایسا ملک بتائیں جہاں اقلیتوں کی آبادی میں اس طرح اضافہ ہوا ہو۔اس بیان کے ذریعے بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات اور جمہوری نظام پر کسی بھی بیرونی تنقید کو قبول نہیں کرے گا۔