بہارپنچایتی راج کے وزیر دیپک پرکاش سے متعلق سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس کے بعد ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے اخلاقی بنیادوں پر ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوری طور پر وزارتی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے آر جے ڈی کی سابقہ حکومتوں پر جوابی حملہ کیا ہے۔ آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سخت مشاہدات کے بعد وزیر دیپک پرکاش کو خود ہی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بعد میں وہ قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے رکن منتخب یا نامزد ہو جائیں تو دوبارہ وزارت سنبھال سکتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں ان کا عہدے پر برقرار رہنا مناسب نہیں۔
اعجاز احمد نے مزید الزام لگایا کہ بہار حکومت آر ایل ایم کے سربراہ اوپیندر کشواہا کے دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی رہنما دیویش کمار سے ایم ایل سی کی نشست خالی کروا کر دیپک پرکاش کو قانون ساز کونسل میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے باوجود وزیر نے اب تک استعفیٰ نہیں دیا۔ دوسری جانب بی جے پی نے آر جے ڈی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرے گی اور عدالت جو بھی فیصلہ دے گی، اس پر مکمل عمل کیا جائے گا۔ بی جے پی کے ترجمان کنتل کرشنا نے کہا کہ آر جے ڈی کو اخلاقیات پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں، کیونکہ اسے پہلے اپنے سیاسی ماضی کا جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے 1997 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چارہ گھوٹالہ سامنے آنے کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے اپنی اہلیہ رابڑی دیوی کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا، اس لیے آر جے ڈی کو اخلاقیات پر درس دینے سے پہلے اپنی تاریخ یاد رکھنی چاہیے۔ دوسری طرف بی جے پی کے گورنر نامزد قانون ساز کونسل کے رکن دیویش کمار نے اپنے ایم ایل سی عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ نشست وزیر دیپک پرکاش کو قانون ساز کونسل میں لانے کے لیے خالی کی گئی ہے، تاہم حکومت یا بی جے پی کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو دیپک پرکاش کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے دوران بہار حکومت سے سوال کیا تھا کہ وہ چھ ماہ گزر جانے کے باوجود، قانون ساز اسمبلی یا قانون ساز کونسل کے رکن بنے بغیر، وزیر کے عہدے پر کیسے برقرار ہیں۔ آئین کے مطابق کسی بھی غیر منتخب وزیر کو تقرری کے چھ ماہ کے اندر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بننا ضروری ہوتا ہے، بصورت دیگر وہ وزارت پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 27 اگست کو مقرر کی گئی ہے، جس پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔