نئی دہلی: مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (TMC) اور خاص طور پر ممتا بنرجی کی غیر متوقع شکست کے بعد ایک بار پھر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے'ووٹ چوری' کا معاملہ اٹھایا ہے۔ بدھ کے روز قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہریانہ کی موجودہ حکومت کو 'گھس پیٹھیا' (مداخلت کار) قرار دیتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی ووٹ چوری کے ذریعے نشستیں چرائی جاتی ہیں تو کبھی پوری حکومت ہی چرا لی جاتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے 240 لوک سبھا ارکان میں سے ہر چھٹے رکن کو ووٹ چوری کے ذریعے جیتا ہوا قرار دیا۔
منصفانہ انتخابات ہوں تو بی جے پی کے 140 ارکان بھی نہیں جیت پائیں گے: راہل
راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس'پر لکھا:لوک سبھا کے 240 بی جے پی ارکانِ پارلیمنٹ میں سے، موٹے طور پر ہر چھٹا رکن ووٹ چوری سے جیتا ہے۔ انہیں پہچاننا مشکل نہیں،کیا انہیں بی جے پی کی زبان میں 'گھس پیٹھیا' کہیں؟ اور ہریانہ؟ وہاں تو پوری حکومت ہی گھس پیٹھیا ہے۔ جو ادارے اپنی جیب میں رکھتے ہیں، ووٹر لسٹوں اور انتخابی عمل کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔وہ خود ریموٹ کنٹرول سے چلتے ہیں۔ انہیں اصل ڈر سچائی سے ہے۔ اگر منصفانہ انتخابات ہوں، تو یہ 140 کے قریب بھی نشستیں نہیں جیت سکتے۔
راہل گاندھی دو دن سے یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں:
مغربی بنگال کے انتخابی نتائج آنے کے بعد سے راہول گاندھی مسلسل 'ووٹ چوری' کا معاملہ اٹھا رہے ہیں۔ منگل کے روز انہوں نے 'ایکس' پر لکھا تھا کہ ممتا بنرجی کی ہار کا مذاق اڑانے والے سمجھ لیں کہ آسام اور بنگال کے عوامی مینڈیٹ کی چوری، بھارتی جمہوریت کو تباہ کرنے کے اپنے مشن میں بی جے پی کا ایک بڑا قدم ہے۔اس سے قبل پیر کے روز انہوں نے لکھا تھا کہ آسام اور بنگال میں بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے تعاون سے 'الیکشن چوری' کیا ہے۔