اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع جوہر یونیورسٹی کے خلاف بڑی انتظامی کارروائی کرتے ہوئے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نے غیر قانونی قرار دی گئی عمارتوں کو مسمار کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر کی گئی عمارتوں کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیا جائے گا۔ یہ کارروائی ریاستی حکومت کی "زیرو ٹالرینس" پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے۔
ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی نے بتایا کہ جوہر یونیورسٹی میں مجموعی طور پر 40 عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں، لیکن ان میں سے صرف دو عمارتوں کے نقشے متعلقہ حکام سے منظور شدہ تھے، جبکہ باقی 38 عمارتیں بغیر اجازت تعمیر کی گئیں، اس لیے انہیں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
ڈی ایم کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کو پہلے نوٹس جاری کیے گئے تھے اور انہیں اپنا تحریری جواب پیش کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔ تفصیلی سماعت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جو علاقہ اب رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، وہ اس سے قبل ضلع پنچایت کے ماتحت تھا۔ ضلع پنچایت نے صرف دو عمارتوں کے نقشوں کی منظوری دی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ منظوری کے قانونی طریقہ کار سے پوری طرح واقف تھی، اس کے باوجود دیگر عمارتیں بغیر اجازت تعمیر کی گئیں۔
انتظامیہ نے یونیورسٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر غیر قانونی تعمیرات کو خود منہدم کرے۔ اگر مقررہ مدت میں ایسا نہ کیا گیا تو آر ڈی اے خود بلڈوزر کارروائی کرتے ہوئے ان عمارتوں کو مسمار کرے گا، اور اس کی لاگت بھی متعلقہ ادارے سے وصول کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ جوہر یونیورسٹی کا قیام 2006 میں عمل میں آیا تھا۔ یہ یونیورسٹی سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان سے منسلک ہے، جو اس کے چانسلر رہے ہیں۔ اعظم خان اس وقت مختلف مقدمات میں جیل میں ہیں۔
رام پور ریلوے اسٹیشن سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ یونیورسٹی 250 ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور ماضی میں بھی مختلف قانونی اور انتظامی تنازعات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی تعمیر کو بخشا نہیں جائے گا اور تمام کارروائیاں مقررہ ضابطوں کے مطابق انجام دی جائیں گی۔