بار بار حمل ضائع ہونا، جسے طبی اصطلاح میں ریکرَنٹ پریگنینسی لاس (Recurrent Pregnancy Loss) کہا جاتا ہے، ایک ایسا تکلیف دہ تجربہ ہے جو صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ گہرے جذباتی اور ذہنی اثرات بھی چھوڑتا ہے۔ ہر جوڑے کا خواب ہوتا ہے کہ ان کے آنگن میں ایک صحت مند بچے کی کِلکاریاں گونجیں، مگر جب یہ خواب بار بار ٹوٹتا ہے تو خوف، سوالات اور مایوسی ساتھ چلنے لگتی ہے۔ اس موضو ع پر ماہر ڈاکٹر سینئر کنسلٹنٹ آبسٹیٹریشین اینڈ گائناکالوجسٹ،انکورا ہسپتال برائے خواتین اور اور اطفال، عطا پور حیدرآباد، ڈاکٹر لکشمی رتنا ایم، نے منصف ٹی وی کے پروگرام صحت اور ہم میں، اہم جانکاری دی۔
ریکرَنٹ پریگنینسی لاس کیا ہے
، ڈاکٹر لکشمی رتنا کے مطابق اگر کسی خاتون کو تین یا اس سے زیادہ مرتبہ حمل ضائع ہو تو اسے ریکرَنٹ پریگنینسی لاس کہا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں دو بار حمل ضائع ہونے کے بعد ہی تفصیلی جانچ شروع کر دی جاتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ جدید طبی سائنس نے اس مسئلے کو نہ صرف بہتر طور پر سمجھا ہے بلکہ کئی صورتوں میں اس کا مؤثر علاج بھی ممکن ہو چکا ہے۔
بار بار حمل ضائع ہونے کی وجوہات
اس مسئلے کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے عام وجہ جنین میں کروموسومل یا جینیاتی خرابیاں ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے حمل ابتدائی مہینوں میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات ماں کو شوگر، ہائی بلڈ پریشر، تھائیرائیڈ یا گردوں کی بیماری ہو تو بھی حمل برقرار نہیں رہ پاتا۔
بچہ دانی کی ساخت میں خرابی
اسی طرح بچہ دانی کی ساخت میں خرابی، جیسے بچہ دانی کے اندر دیوار (Septum)، فائبرائیڈز، یا خون کی مناسب فراہمی نہ ہونا بھی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ چوتھے یا پانچویں مہینے میں ہونے والے حمل ضائع ہونے کی ایک اہم وجہ سروائیکل انکمپیٹینس ہوتی ہے، جس میں بچہ دانی کا منہ وقت سے پہلے کھل جاتا ہے۔
امیونولوجیکل مسئلہ
حالیہ برسوں میں ایک اور اہم وجہ سامنے آئی ہے جسے امیونولوجیکل مسئلہ کہا جاتا ہے۔ اس میں ماں کا مدافعتی نظام جنین کو غیر ملکی شے سمجھ کر اس کے خلاف ردعمل ظاہر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں حمل ضائع ہو سکتا ہے۔
جدید طبی علاج اور امکانات
اگر وجہ قابلِ علاج ہو تو بروقت تشخیص اور درست علاج سے کامیاب حمل ممکن ہے۔ مثال کے طور پر سروائیکل انکمپیٹینس میں تیسرے مہینے کے دوران سرکلیج (ٹانکہ) لگا کر بچہ دانی کو سہارا دیا جاتا ہے، جس سے حمل محفوظ رہ سکتا ہے۔
کامیاب حمل کے امکانات
جینیاتی مسائل کی صورت میں آئی وی ایف (IVF) اور پری ایمپلانٹیشن جینیٹک ٹیسٹنگ (PGT) کے ذریعے صحت مند ایمبریو منتخب کر کے کامیاب حمل کے امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں ڈونر ایگ یا اسپرم بھی ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے۔
امیونولوجیکل وجوہات کے لیے مخصوص علاج اور ادویات پر تحقیق جاری ہے، اگرچہ یہ علاج مہنگے اور محدود دستیاب ہیں، مگر بعض کیسز میں امید کی کرن ثابت ہوئے ہیں۔
جذباتی سپورٹ اور امید کی اہمیت
طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بار بار حمل ضائع ہونے کی صورت میں جذباتی سپورٹ بے حد ضروری ہے۔ شوہر، خاندان اور ڈاکٹر کا مثبت رویہ مریضہ کے حوصلے کو مضبوط کرتا ہے۔ ذہنی دباؤ براہِ راست وجہ نہ بھی ہو، مگر یہ جسمانی مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ مایوسی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ کئی خواتین نے پانچ، چھ یا اس سے بھی زیادہ بار حمل ضائع ہونے کے بعد کامیاب اور صحت مند بچوں کو جنم دیا ہے۔
مشکل ہے ناممکن نہیں
ریکرَنٹ پریگنینسی لاس ایک مشکل مرحلہ ضرور ہے، مگر یہ ناممکن نہیں۔ جدید طبی سائنس، بروقت تشخیص، درست علاج اور جذباتی سہارا اس سفر کو آسان بنا سکتے ہیں۔ ہر ناکامی کے بعد امید ختم نہیں ہوتی، بلکہ درست رہنمائی کے ساتھ ایک نئی شروعات ممکن ہے۔ یاد رکھیں، سوال پوچھنا، مدد لینا اور مثبت رہنا ہی ایک محفوظ اور کامیاب حمل کی طرف پہلا قدم ہے۔