• News
  • »
  • قومی
  • »
  • لال قلعہ کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد پولیس کا انکشاف

لال قلعہ کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد پولیس کا انکشاف

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 11, 2026 IST

لال قلعہ کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد پولیس کا انکشاف
 
 
دہلی کے تاریخی لال قلعہ کو ہفتے کے روز بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی، جس کے بعد دہلی اور ممبئی پولیس فوری طور پرکاروائی شروع کر دی۔ بعد میں تحقیقات کے بعد پولیس نے اس دھمکی کو جعلی کال (Hoax Call) قرار دیا۔
 

دھمکی کیسے ملی؟

پولیس کے مطابق ایک شخص نے ممبئی پولیس کے کنٹرول روم میں فون کر کے کہا کہ دہلی کےلال قلعہ میں بم رکھا گیا ہے۔ ممبئی پولیس نے فوراً یہ اطلاع دہلی پولیس کو دی، جس کے بعد پولیس نےلال قلعہ پہنچ کر تلاشی اور جانچ شروع کر دی۔
 
پولیس لال قلعہ پہنچ کرمکمل جانچ کی اور تلاشی لی، لیکن وہاں کوئی مشکوک چیز یا بم نہیں ملا۔ تمام معلومات کی جانچ کے بعد پولیس نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک جھوٹی دھمکی تھی۔
 

دہلی پولیس کا بیان

دہلی پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ممبئی پولیس سے اطلاع ملنے کے بعد فوری کاروائی کی گئی، لیکن تحقیقات کے بعد پولیس نے اپنے بیان میں کہا  کہ یہ کال جعلی تھی اور لال قلعہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔
 

پہلے بھی مل چکی ہیں ایسی دھمکیاں

یہ پہلی بار نہیں ہےکہ  جب لال قلعہ کو بم کی دھمکی ملی ہو۔ اس سے پہلے بھی لال قلعہ اور دہلی سیکریٹریٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔
 
اسی روز دہلی سیکریٹریٹ کو بھی ایک ای میل کے ذریعے بم کی دھمکی دی گئی تھی۔ دہلی فائرسروس کے مطابق دوپہر تقریباً 12 بجے اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں  نے دہلی سیکریٹریٹ کی مکمل تلاشی لی، لیکن وہاں بھی کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔
 

اسکولز کو بھی بم کی دھمکیاں

اس سے قبل دہلی کے دو اسکولزکو بھی ای میل کے ذریعے بم کی دھمکی دی گئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں  نے دونوں اسکولزکی تلاشی لی اورمکمل جانچ کی، لیکن وہاں بھی کوئی بم یا مشکوک سامان برآمد نہیں ہوا۔
 

لال قلعہ دھماکے کیس میں نئی پیش رفت

دوسری جانب نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے لال قلعہ کے علاقے میں گزشتہ سال ہونے والے کار بم دھماکے سے متعلق ایک فارنسک رپورٹ عدالت میں جمع کر دی ہے۔
 
عدالتی ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ خصوصی جج پیتہ مبردت( Pitambar Dutt)کے سامنے پیش کی گئی، جو اب اس کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کاروائی کا فیصلہ کریں گے۔ عدالت نے اس کیس میں گرفتار نو ملزمان کی عدالتی تحویل 13 جولائی تک بڑھا دی ہے۔
 

چارج شیٹ اور مزید ملزمان

 اس سے پہلے بھی 7,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں جمع کی جا چکی ہے، جو گزشتہ سال 10 نومبر کو دہلی میں ہونے والے کار بم دھماکے سے متعلق ہے۔
 
(گزشتہ ماہ) اس کیس میں تین مزید افراد کے خلاف ضمنی چارج شیٹ بھی داخل کی، جن میں ایک فرارڈاکٹر بھی شامل ہے، جسے دہشت گرد گروپ کا اہم رکن بتایا گیا ہے۔
 
اس نئی چارج شیٹ کے بعد اس مقدمے میں درج کیے گئےملزمان کی تعداد 13 ہو گئی ہے، جن میں مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر النبی بھی شامل ہے، جو دھماکہ خیز سامان سے بھری گاڑی چلا رہا تھا اور دھماکے میں ہلاک ہو گیا تھا۔