اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد مشرق وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ایران میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیلی اور امریکی ٹھکانوں پر حملہ کر رہا ہے۔ ان حملوں میں کئی اسرائیلی اور امریکی ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں۔ اس دوران، ایک رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ اسرائیل نے سالوں سے ایران کے ٹریفک کیمرے ہیک کر رکھے تھے اور سپریم لیڈر کے ہر لمحے پر نظر رکھ رہا تھا۔
لندن بیسڈ فنانشل ٹائمز کے مطابق، جس نے متعدد ذرائع کا حوالہ دیا، اسرائیل نے خامنہ ای اور ان کی سیکیورٹی ڈیٹیل کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرنے اور موبائل فون نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنے میں سالوں گزارے۔ تہران کے تقریباً تمام ٹریفک کیمرے سالوں سے ہیک کیے گئے تھے، جن کی فوٹیج انکرپٹ کر کے سرورز پر بھیجی جاتی تھی۔ اس ہیک کی مدد سے اسرائیلی اور امریکی فوج کو خامنہ ای کی لوکیشن کا پتہ لگانے میں مدد ملی، جس سے ایک ٹارگٹڈ حملے میں انہیں شہید کر دیا گیا۔
سپریم لیڈر کی موت کے بعد ایران کا حملہ:
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی کے اثرات خلیجی ممالک میں بھی دیکھے جا رہے ہیں، جہاں ایران نے امریکی اور آسٹریلوی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے دوبئی میں بڑے ڈرون حملے کیے ہیں۔ جس کے بعد دوبئی میں شدید خوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے۔وہیں ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ حملے امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
آسٹریلوی فوجی اڈہ بھی نشانے پر:
ایران نے دبئی کی عمارت پر حملے کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی فوجی اڈے المنہاد ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا۔ تاہم آسٹریلوی حکام کے مطابق وہاں تعینات تمام اہلکار محفوظ ہیں۔ یہ بیان رچرڈ مارلس کی جانب سے جاری کیا گیا۔ ان کے مطابق المنہاد ایئر بیس پر آسٹریلوی فوجی تعینات ہیں اور ایرانی حملے کے بعد تمام اہلکاروں کی گنتی مکمل کر لی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 100 آسٹریلوی فوجی تعینات ہیں، جن میں سے اکثریت متحدہ عرب امارات میں موجود ہے۔