Monday, June 08, 2026 | 21 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • ریونت ریڈی کے شمالی اورجنوبی ہند پرتنازع، اپوزیشن اورمرکزکا ردعمل

ریونت ریڈی کے شمالی اورجنوبی ہند پرتنازع، اپوزیشن اورمرکزکا ردعمل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 08, 2026 IST

ریونت ریڈی کے شمالی اورجنوبی ہند پرتنازع، اپوزیشن اورمرکزکا ردعمل
تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے شمالی اور جنوبی ہندوستان کے درمیان مبینہ ناانصافی سے متعلق ریمارکس نے ملک کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ریونت ریڈی نے حال ہی میں جنوبی ریاستوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی ہندوستان کے لوگ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح زندگی نہیں گزارنا چاہتے۔
 
وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں آبادی، مالی تعاون اور سیاسی نمائندگی جیسے معاملات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ اور وزیراعظم جیسے اہم عہدوں پر زیادہ تر انتخاب شمالی ہندوستان سے ہوا ہے، جبکہ جنوبی ریاستیں ملک کے ریونیو میں بڑا حصہ ادا کرتی ہیں۔ریونت ریڈی نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ ملک کی ترقی میں جنوبی ریاستوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ ان کے مطابق جنوبی ریاستوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی پالیسیوں کے باوجود انہیں سیاسی نمائندگی اور مالی تقسیم کے معاملات میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حلقوں کی حد بندی کو لیکر بھی ریونت ریڈی نے اعتراض جتایا تھا۔

بی جے پی کا ردعمل، بیان کو ملک مخالف قرار دیا

ریونت ریڈی کے بیان پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ ایسے بیانات ملک کو شمال اور جنوب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ہیں۔پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ ہندوستان ایک متحد ملک ہے اور علاقائی جذبات کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ بی جے پی نے وزیراعلیٰ کے بیان کو "تقسیم پیدا کرنے والا" قرار دیا۔

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بھی کیا اعتراض

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بھی ریونت ریڈی کے ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی شناخت اتحاد میں ہے اور کسی بھی قسم کی علاقائی تقسیم کی سوچ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام حصے برابر ہیں اور کسی ریاست یا خطے کو دوسرے سے الگ دیکھنا مناسب نہیں۔

شیوسینا یوبی ٹی کا مشورہ،ملک کو تقسیم نہ کریں

شیو سینا (یو بی ٹی) نے بھی ریونت ریڈی کے بیان پر ردعمل دیا اور کہا کہ شمال اور جنوب کی تقسیم ملک کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔پارٹی نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی اتحاد کو متاثر کرنے والی باتوں سے گریز کرنا چاہئے۔

کیرالا کے سابق وزیراعلیٰ نے بھی اٹھائے سوال

کیرالا کےسابق وزیراعلیٰ پنارائی وجین نے بھی ریونت ریڈی کے بعض بیانات پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل پر بات کرنا ضروری ہے، لیکن ایسے الفاظ استعمال نہیں ہونے چاہئیں جو ملک میں تقسیم کا احساس پیدا کریں۔

جنوبی ریاستوں کے مسائل پر پرانی بحث

ماہرین کے مطابق جنوبی ریاستوں اور مرکز کے درمیان مالی تقسیم، آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم اور سیاسی نمائندگی جیسے معاملات پر بحث کئی سالوں سے جاری ہے۔جنوبی ریاستیں اکثر یہ موقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ انہوں نے آبادی کنٹرول اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لئے قومی پالیسیوں میں ان کے مفادات کا خیال رکھا جانا چاہئے۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مسائل کو اٹھاتے وقت قومی یکجہتی کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
 
ریونت ریڈی کے بیان نے ایک بار پھر ملک میں وفاقی نظام، وسائل کی تقسیم اور شمال جنوب توازن کے سوال کو سیاسی مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔