• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • روس-یوکرین جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، جنوبی یوکرین شدید حملوں کی زد میں

روس-یوکرین جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، جنوبی یوکرین شدید حملوں کی زد میں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 22, 2026 IST

روس-یوکرین جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، جنوبی یوکرین شدید حملوں کی زد میں
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ یوکرین کے جنوبی علاقے زاپوریزیا کی فوجی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس نے علاقے پر 899 حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ڈرونز، توپ خانے اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس سے رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
 
زاپوریزیا یوکرین کے ان اہم علاقوں میں شامل ہے جو جنگ کے آغاز سے ہی مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ اس خطے کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ یہاں یورپ کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر واقع ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر رہی ہیں۔
 
تازہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کے محاذ پر دونوں فریق اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روسی افواج مسلسل دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ یوکرین مغربی اتحادیوں کی حمایت سے دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مصروف ہے۔
 
موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو آنے والے دنوں میں جنگ کے فوری خاتمے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ روس اور یوکرین دونوں اس وقت مذاکرات کے بجائے میدانِ جنگ میں اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر حملوں کی یہی شدت برقرار رہی تو مزید جانی نقصان اور انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
 
تاہم بین الاقوامی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتیں جنگ بندی اور مذاکرات کی حمایت کر رہی ہیں۔ اگر سفارتی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو محدود جنگ بندی یا عارضی امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے، لیکن زاپوریزیا پر حالیہ حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ روس۔یوکرین جنگ ابھی ختم ہونے سے کافی دور دکھائی دیتی ہے۔