• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • سعودی عرب میں امن مذاکرات کے دوران یوکرین میں روسی ڈرون حملہ، افراد7 ہلاک

سعودی عرب میں امن مذاکرات کے دوران یوکرین میں روسی ڈرون حملہ، افراد7 ہلاک

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Mia | Last Updated: Mar 24, 2025 IST     

image
سعودی عرب میں امن مذاکرات کے درمیان یوکرین اور روس کے درمیان جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔ اس بار روس نے یوکرین پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق اتوار کی رات روس کے ڈرون حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔روس نے رات بھر 147 ڈرون حملے کئے۔ یوکرین کے فضائی دفاع نے 97 کو مار گرایا اور مزید 25 ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
 

دارالحکومت کیف سمیت ان شہروں میں حملے:

یوکرین  حکام کے مطابق روس نے ڈرون کے ذریعے خارکیف، سومی، چرنیہیو، اوڈیسا اور ڈونیٹسک کے علاقوں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت کیف کو بھی نشانہ بنایا۔فوجی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ کیف میں ڈرون حملے میں 5 سالہ بچے سمیت 3 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔صبح سویرے یوکرین کے دارالحکومت میں دھماکوں کی لمبی آوازیں سنی گئیں کیونکہ فضائی حملے پانچ گھنٹے سے زیادہ جاری رہے۔ نچلی پرواز کرنے والے ڈرون کو ناکام بنادیا گیا ۔
 

روس اور یوکرین کا  ایک دوسرے پر الزام !

حملوں کے حوالے سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ کیف جیسے حملے یوکرین میں روز کا معمول ہیں۔ صرف اس ہفتے 1,580 سے زیادہ فضائی بم، تقریباً 1,100 حملہ آور ڈرونز اور مختلف اقسام کے 15 میزائل استعمال کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ نئے حل نکالنے کی ضرورت ہے۔روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے رات بھرمیں  یوکرین کے 59 ڈرون کو نامکام کر ديے ہیں ، جن میں روستوو کے علاقے میں 29 اور جنوب مغربی آسٹراخان میں 20 مزید شامل ہیں۔
 

امن مذاکرات کو نقصان!

دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر روس کے حملوں نے سعودی عرب میں جاری جنگ بندی مذاکرات کو نقصان پہنچایا ہے۔یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے  ہیں جب یوکرین اور روس کے درمیان بالواسطہ امریکی ثالثی میں پیر کو ہونے والے مذاکرات متوقع ہیں۔اس میں توانائی کی تنصیبات اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے طویل فاصلے تک حملوں کو روکنے پر بات کی جائے گی۔روس اس سے پہلے بھی ڈرون حملے کر چکا ہے۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی دونوں ممالک کے صدور سے بات کر چکے ہیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے یوکرین جنگ کے حوالے سے فون پر بات کی ہے۔ٹرمپ نے پوٹن سے تقریباً 90 منٹ اور زیلنسکی سے ایک گھنٹہ بات کی۔ بات چیت کے بعد روس نے کہا تھا کہ وہ 30 دنوں تک یوکرین کی توانائی کی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر حملہ نہیں کرے گا۔ٹرمپ کی جانب سے پوٹن کی یقین دہانی کے بعد یوکرین نے اتفاق کیا۔ تاہم اس کے بعد بھی حملے جاری رہے۔