Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • رام مندرعطیہ چوری کیس میں بڑا موڑ،ایس آئی ٹی نے دو سابق عہدیداروں کو دی کلین چٹ

رام مندرعطیہ چوری کیس میں بڑا موڑ،ایس آئی ٹی نے دو سابق عہدیداروں کو دی کلین چٹ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

رام مندرعطیہ چوری کیس میں بڑا موڑ،ایس آئی ٹی نے دو سابق عہدیداروں کو دی کلین چٹ
رام مندر سے متعلق عطیات میں مبینہ چوری اور بے ضابطگیوں کے معاملے میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ اتر پردیش کے محکمہ داخلہ نے ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ شری رام جنم بھومی مندر تیرتھ کھیترا ٹرسٹ کو بھیج دی ہے۔ رپورٹ میں معاملے پر مزید کاروائی کے لیے سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں۔ تین رکنی ایس آئی ٹی کی سربراہی لکھنؤ کے ڈویژنل کمشنر وجے وشواس پنت نے کی۔ ٹیم میں آئی جی رینج کرن ایس اور خصوصی سکریٹری برائے خزانہ نیل رتن کمار بھی شامل تھے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ 23 جون کو حکومت کو پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں معاملے کی مزید تحقیقات اور کاروائی کے حوالے سے کئی اہم سفارشات دی گئی تھیں۔

ابتدائی رپورٹ کے بعد ایف آئی آر درج

ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر 25 جون کو پہلی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ یہ مقدمہ شری رام جنم بھومی پولیس اسٹیشن میں ٹرسٹ کے رکن کرشن موہن کی تحریری شکایت پر درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں آٹھ افراد کو نامزد کیا گیا، جبکہ کچھ نامعلوم افراد کو بھی ملزم بنایا گیا۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف چوری، دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ معاملے میں اویناش شکلا، انکلپ مشرا، لوکش مشرا، منیش کمار یادو، کرونیش پانڈے.، راماشنکر مشرا، سبھاش سریواستو اور شنکر شنکر سمیت دیگر افراد کے نام شامل کیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے بھی تحقیقات پر نظر رکھی

رام مندرعطیہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچا تھا۔ عدالت نے ایس آئی ٹی کو تحقیقات میں تیزی لانے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت دی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایس آئی ٹی سے تحقیقات میں پیش رفت کی رپورٹ طلب کی تھی۔ بنچ میں جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی تحقیقات کی صورتحال سے متعلق رپورٹ عدالت میں بند لفافے میں پیش کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ پہلے رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اسے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ شیئر کیا جائے یا نہیں۔

معاملہ سیاسی بحث کا بھی حصہ بنا

رام مندر عطیات سے متعلق معاملہ سیاسی سطح پر بھی بحث کا موضوع رہا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے اس معاملے میں حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ کھرگے نے الزام لگایا تھا کہ رام مندر سے متعلق عطیات، قیمتی اشیا، نقد رقم، زمین کی خریداری اور ٹرسٹ کے انتظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ معاملہ لاکھوں عقیدت مندوں کے عقیدے سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس میں مکمل شفافیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے ان الزامات پر وضاحت دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

مرکزی حکومت نے الزامات کو سیاسی معاملہ قرار دیا

دوسری جانب مرکزی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے الزامات پر اعتراض کیا گیا۔ مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے معاملے کو پارلیمنٹ میں بار بار اٹھا کر ایوان کا قیمتی وقت ضائع کرنے پر معافی مانگیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے متعلقہ تحقیقاتی اداروں کو اپنا کام کرنے دیا جانا چاہیے۔

اب حتمی رپورٹ کے بعد کیا ہوگا؟

ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ ٹرسٹ کو بھیجے جانے کے بعد اب اس معاملے میں اگلی کاروائی اہم ہوگی۔ ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر پہلے ہی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، جبکہ سپریم کورٹ بھی تحقیقات کی پیش رفت پر نظر رکھ رہی ہے۔ اب متعلقہ حکام کو ایس آئی ٹی کی حتمی سفارشات کا جائزہ لے کر قانونی کاروائی کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ معاملے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی حتمی قانونی حیثیت بھی تحقیقات اور عدالتی کاروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔ فی الحال ایس آئی ٹی کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یہ معاملہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ حتمی رپورٹ کی سفارشات کی بنیاد پر آگے کیا کاروائی کی جاتی ہے۔

چمپت رائے اور انیل مشرا کو کلین چٹ مل گئی

 رپورٹس کے مطابق ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا ٹرسٹ کے سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے اور سابق ٹرسٹی انیل مشرا کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ دونوں پر پہلے سوالات اٹھائے گئے تھے اور دونوں نے 27 جون کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب حتمی رپورٹ میں انہیں اس معاملے میں کلین چٹ دی گئی ہے۔

ایس آئی ٹی نے سکیورٹی بڑھانے کی سفارش کی

رپورٹ کے مطابق حتمی رپورٹ میں مندر کے اندرونی حصے میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھانے اور وہاں ہونے والی سرگرمیوں پر زیادہ سخت نظر رکھنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کی زیرِ نگرانی الگ ایس آئی ٹی کا معاملہ

 اتر پردیش حکومت کی بنائی ہوئی ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ آ گئی ہے، لیکن سپریم کورٹ کی نگرانی میں چل رہی تحقیقات الگ معاملہ ہے۔ اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ ایس آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ پیش کر دی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔سپریم کورٹ نے 17 اگست کو اس دوسری ایس آئی ٹی سے تحقیقات کی پیش رفت کی رپورٹ طلب کی اور اسے جلد تحقیقات مکمل کرکے انجام تک پہنچانے کی ہدایت دی۔