بہار کے بھوجپورضلع میں پیش آئے ہائی پروفائل بھرت تیواری انکاؤنٹر کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس معاملے میں نامزد اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے ایک اہلکار کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس کارروائی کو کیس کی تفتیش میں اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ بھرت تیواری انکاؤنٹر کے بعد یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا تھا جب مقتول کے اہلِ خانہ نے پولیس کارروائی پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ بھرت تیواری نے ہتھیار ڈال دیے تھے، لیکن اس کے باوجود ایس ٹی ایف کے اہلکار نے ان پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص خودسپردگی کر دے تو اس پر مہلک طاقت کا استعمال قانون اور طے شدہ طریقۂ کار کے خلاف ہے۔ انہوں نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، ابتدائی تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر پولیس نے نامزد ایس ٹی ایف اہلکار کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم، حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات یا گرفتاری کی وجوہات پر ابھی تک مکمل بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
اس کیس نے بہار میں پولیس کارروائی اور انکاؤنٹر کے طریقۂ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب سب کی نظریں آئندہ عدالتی کارروائی اور تفتیشی ایجنسی کی رپورٹ پر مرکوز ہیں، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ واقعے کے حالات کیا تھے اور ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔