گزشتہ سال 24 نومبر 2024 کو اتر پردیش کے سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد کے دوسرے سروے کے دوران تشدد پھوٹ پڑاتھا۔ اس تشدد میں پانچ افراد مارے گئے، جب کہ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے ساتھ کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اس پر تشدد معاملہ میں پولس اب تک کاروائی کرتے ہوئے 3 خواتین سمیت تقریباً 79 لوگوں کو جیل بھیج چکی ہے۔ فی الحال پولیس اور دیگر ایجنسیاں معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔
وہیں اس سلسلے میں گزشتہ اتوار (23 مارچ) کو شاہی جامع مسجد کے صدر جعفر علی کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں اسے گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔ عدالت نے شاہی جامع مسجد کے صدر ظفر علی کی عرضی ضمانت مسترد کردی ہے ۔ اسکے علاوہ میڈیا رپورٹ ذی سلام ویب پورٹل کے مطابق ظفر علی کے خلاف درج ایف آئی آر میں عمر قید جیسی دفعات لگائی گئی ہیں۔ یہ ایف آئی آر سنبھل کوتوالی کے انسپکٹر انچارج دیپک راٹھی نے درج کرائی ہے۔
ظفر علی کے خلاف دفعہ 230 اور 231 کے تحت مقدمہ درج :
پولیس نے شاہی جامع مسجد کے صدر ظفر علی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 230 اور 231 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کیس میں ایم پی ضیاء الرحمان برق اور ایم ایل اے اقبال محمود کے بیٹے سہیل اقبال کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ظفر علی پر سخت دفعات لگائی گئی ہیں۔ اس کے تحت سیکشن 230 میں سزائے موت اور سیکشن 231 میں عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔آپ کو بتا دیں کہ سنبھل تشدد کے چار ماہ بعد جامع مسجد کے صدرظفر علی کو پولیس نے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ اس پر ہجوم کو اکسانے اور ہنگامہ کرنے کا الزام ہے۔
تاہم چندوسی عدالت میں پیشی کے دوران ظفر علی نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ میں نے کوئی تشدد نہیں بھڑکایا۔ساتھ ہی بتا تے چلیں کہ پولیس نے جب شاہی جامع مسجد کے صدر ظفر علی کو اتوار کی صبح 11 بجے ان کے گھر سے گرفتار کیا اور پولیس اسٹیشن میں ان سے تقریباً چار گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔اور اس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس وقت ظفر علی کی حمایت میں ان کے ساتھی وکلاء پولیس کی گاڑی کے پیچھے بھاگے اور لوگ ظفر علی زندہ باد کے نعرے بلند کیے ۔اسکے علاوہ گزشت کل وکیلوں کی ایک جماعت نے ظفر علی کی حمایت اور انکی گرفتاری کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔