ذوالحجہ اسلامی کیلنڈر کا آخری اور نہایت مقدس مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں مسلمان فریضۂ حج ادا کرتے ہیں۔ دنیا بھر کےمسلمان حج ادا کرنے کےلئے مقدس سر زمین مکہ مکرمہ پہنچ رہےہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کو انتہائی فضیلت حاصل ہے اور ان ایام میں عبادت، ذکر و اذکار، روزہ، صدقہ و خیرات اور نیک اعمال کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
27 مئی کو عید الاضحیٰ منائی جائےگی
سعودی عرب میں ذوالحجہ 1447 ہجری کا چاند نظر آنے کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے، جس کے بعد پیر 18 مئی کو یکم ذوالحجہ ہوگی جبکہ عیدالاضحیٰ بروز بدھ 27 مئی 2026 کو منائی جائے گی۔ سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے چاند نظر آنے کے اعلان کے بعد عالمِ اسلام میں خوشی، عقیدت اور روحانی جذبے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بھارت میں 28 مئی کو عید الاضحیٰ
متحدہ عرب امارات، پاکستان اور کئی خلیجی ممالک نے بھی ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کی تصدیق کرتے ہوئے 27 مئی کو عیدالاضحیٰ منانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بھارت کے بیشتر علاقوں میں چاند نظر نہ آنے کے باعث یہاں 28 مئی بروز جمعرات کو عیدالاضحیٰ منائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
منا سک حج اور ایام حج
حج کے مناسک (عبادات و رسومات) مخصوص ایام (8 سے 13 ذوالحجہ) میں مکہ مکرمہ اور اس کے نواحی مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں۔اسی کے ساتھ مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز بھی ہو جائے گا اور دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کرام مکہ مکرمہ، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں عبادات، دعا اور استغفار میں مصروف ہوں گے۔سعودی حکام کے مطابق 9 ذوالحجہ یعنی یومِ عرفہ 26 مئی بروز منگل ہوگا، جس روز لاکھوں عازمینِ حج میدانِ عرفات میں رکنِ اعظم حج ادا کریں گے۔
ایام حج 8 ذی الحجہ سے شروع
ایام حج 1447 ہجری (2026ء) کا آغاز 8 ذی الحجہ (پیر، 25 مئی 2026ء) سے ہو رہا ہے۔
8 ذی الحجہ (25 مئی 2026ء) - یوم الترویہ: حجاج کرام منیٰ میں قیام کریں گے اور ظہر سے فجر تک عبادات میں مصروف رہیں گے۔
9 ذی الحجہ (26 مئی 2026ء) - یوم عرفہ (وقوف عرفہ): یہ حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہو کر خطبہ سنیں گے اور دعا و استغفار کریں گے۔
10 ذی الحجہ (27 مئی 2026ء) - یوم النحر (عید الاضحیٰ): حجاج مزدلفة سے منیٰ واپس آکر رمی جمرات (کنکریاں مارنا)، قربانی، حلق یا تقصیر (سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا) اور طواف افاضہ کی ادائیگی کریں گے۔
11 سے 13 ذی الحجہ (28 سے 30 مئی 2026ء) - ایام التشریق: حجاج کرام منیٰ میں قیام کرتے ہوئے تینوں جمرات کو کنکریاں ماریں گے۔
حج اسلام کا بنیادی پانچواں رکن ہے
حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے، جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ یہ ایک مقدس اور عالمی اجتماعی عبادت ہے جو ذی الحجہ کے مقررہ دنوں میں مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں خاص مناسک اور شرائط کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔
حج کی فرضیت
یہ حکم قرآن، احادیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور اللہ کے واسطے لوگوں کے ذمہ اس گھر کا حج کرنا ہے (یعنی) اس شخص کے جو وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اس کا انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
حج کی اہمیت اور فضیلت
یہ گناہوں کی بخشش، روحانی پاکیزگی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا عظیم الشان مظہر ہے۔ احادیث کے مطابق، مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔