سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کی سینئر خاتون لیڈرمحترمہ محسنہ قدوائی آج صبح کی اولین ساعتوں میں انتقال کرگئیں۔ ان کی عمر 93 برس تھی اور وہ کافی عرصے سے علیل تھیں ۔ ان کی پیدائش اترپردیش کے بارہ بنکی میں یکم جنوری 1932 کو ہوا تھا۔ انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی ۔ان کی شخصیت میں اودھی تہذیب رچی بسی تھی ۔ وہ اعلیٰ انسانی اور اخلاقی اوصاف سے مزین تھیں۔ محسنہ قدوائی کا شمار کانگریس کے تجربہ کار اور بااثر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ نہرو-گاندھی خاندان کے قریب سمجھی جاتی تھیں اور طویل عرصے تک قومی سیاست میں فعال کردار ادا کرتی رہیں۔ ان کے انتقال پر کانگریس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے سے پہلے محسنہ قدوائی اتر پردیش کی سیاست میں بھی سرگرم رہیں۔ وہ ریاستی حکومت میں خوراک و شہری رسد، سماجی بہبود اور چھوٹی صنعتوں جیسے محکموں کی وزیر رہیں۔ اس کے علاوہ وہ اتر پردیش اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی رکن بھی رہیں، جبکہ بعد میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی رکنیت بھی حاصل کی۔
محسنہ قدوائی نے آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ اپنا سیاسی کیریئر شروع کیا تھا۔ بعد میں انھیں راجیو گاندھی کابینہ میں بھی شامل کیا گیا۔ وہ1977 سے 1989 تک لوک سبھا اور 2004 سے 2016 تک راجیہ سبھا کی رکن رہیں۔ وہ مرکزی حج کمیٹی کی چیئرپرسن بھی رہیں۔ انھوں نے کانگریس پارٹی کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی قیادت میں مرکزی حکومت میں اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان میں صحت و خاندانی بہبود، شہری ترقی، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور دیہی ترقی جیسے اہم شعبے شامل رہے۔ ان کی انتظامی صلاحیت اور عوامی رابطے کو ہمیشہ سراہا جاتا رہا۔ وہ پارٹی کی جنرل سکریٹری ، ورکنگ کمیٹی اور سی ای سی کی ممبر بھی رہیں۔ ان کا شمار پارٹی چند منتخب معتمدین میں ہوتا تھا ۔چند برس پہلے ان کی سوانح عمری انگریزی ، ہندی اور اردو تینوں زبانوں میں شائع ہوئی تھی ، جسے معروف انگریزی صحافی رشید قدوائی نے ترتیب دیا تھا۔
کھرگے، راہل اور پرینکا گاندھی کا اظہار تعزیت
ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، خاص طور پر اتر پردیش کے بارہ بنکی ضلع میں سوگ کا ماحول ہے جہاں ان کا آبائی تعلق رہا۔ ان کے انتقال سے ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں میں گہرا صدمہ ہے۔ مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق محسنہ قدوائی کی تدفین دہلی میں ہی عمل میں آئے گی۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ محسنہ قدوائی کا انتقال نہ صرف کانگریس بلکہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ محسنہ قدوائی نے چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ ملک کی خدمت میں گزارا اور پارٹی کے مشکل ترین ادوار میں رہنمائی کا کردار ادا کیا۔ کھرگے کے مطابق وہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی طویل عرصے تک رکن رہیں اور کانگریس ورکنگ کمیٹی میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔ انہوں نے محسنہ قدوائی کے اہل خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔
راہل گاندھی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ محسنہ قدوائی کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے انہیں کانگریس کی نہایت سینئر اور وفادار رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی عوامی خدمت کی ایک مثال رہی ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق محسنہ قدوائی کی سادگی، شائستگی اور باوقار سیاسی کردار نے ملک کی خواتین کی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے سوگوار خاندان اور حامیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
پرینکا گاندھی نے اپنے پیغام میں کہا کہ محسنہ قدوائی کی دانشمندی اور رہنمائی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے وقت کی ایک باہمت رہنما تھیں اور اتر پردیش میں کانگریس کی چند خواتین صدور میں شامل رہیں۔ پرینکا گاندھی کے مطابق محسنہ قدوائی نے ریاست کے کونے کونے کا سفر کیا اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے۔ انہوں نے ان کی جرات، نظریاتی وابستگی اور حب الوطنی کو ناقابلِ سوال قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت نرم دل اور باوقار شخصیت کی مالک تھیں۔