اکثر لوگ خرراٹوں کو معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ بعض اوقات ایک سنگین بیماری ’’آبِسٹرکٹیو سلیپ ایپنیا‘‘ (OSA) کی علامت ہو سکتے ہیں۔ اس کیفیت میں سوتے وقت سانس کی نالی عارضی طور پر بند ہو جاتی ہے جس کے باعث سانس 10 سیکنڈ یا اس سے زیادہ دیر کے لیے رک سکتی ہے۔ بار بار ایسا ہونے سے نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ دل اور دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
منصف ٹی وی کےخاص پروگرا م ہیلتھ اور ہم میں کیئر ہاسپٹلز، مشیرآباد حیدرآباد کے سینئر پلمونولوجسٹ ڈاکٹر سید عبدالعلیم نے تفصیلی گفتگو کی ۔ ڈاکٹر سید عبدالعلیم کے مطابق عام خرراٹے اور خطرناک خرراٹوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اگر خرراٹوں کے ساتھ نیند میں دم گھٹنے کا احساس ہو، اچانک ہڑبڑا کر اٹھنا پڑے، صبح اٹھ کر تازگی محسوس نہ ہو یا دن بھر غنودگی رہے تو یہ سلیپ ایپنیا کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسے افراد بیٹھے بیٹھے بھی سو جاتے ہیں اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری میں گہری نیند کے دوران گلے کے پٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں جس سے سانس کی نالی تنگ یا بند ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً جسم کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں مل پاتی۔ اگر یہ مسئلہ طویل عرصے تک برقرار رہے تو ہائی بلڈ پریشر، دل کی بے ترتیبی دھڑکن، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ بعض کیسز میں اچانک دل کا دورہ پڑنے کا امکان بھی ہوتا ہے، خاص طور پر صبح کے اوقات میں۔
موٹاپا اس بیماری کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، تاہم تھائرائیڈ کی خرابی، ناک کی ہڈی کا ٹیڑھا ہونا، ٹانسلز یا ایڈینوئڈز کا بڑھ جانا بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ مردوں میں یہ مسئلہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ پایا جاتا ہے، تاہم رجونورتی کے بعد خواتین میں بھی اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تشخیص کے لیے ’’سلیپ اسٹڈی‘‘ یا پولی سومن گرافی کو مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے نیند کے دوران سانس، دل کی دھڑکن اور آکسیجن لیول کی نگرانی کی جاتی ہے۔ علاج میں سی پی اے پی (CPAP) مشین کو گولڈ اسٹینڈرڈ قرار دیا جاتا ہے جو نیند کے دوران سانس کی نالی کو کھلا رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ بعض مریضوں میں سرجری بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر مسئلہ ٹانسلز یا ناک کی ساخت سے متعلق ہو۔
ڈاکٹر عبدالعلیم کا مشورہ ہے کہ خرراٹوں کو مذاق نہ سمجھیں۔ اگر کسی فرد میں دن کے وقت غیر معمولی نیند، تھکن یا نیند میں سانس رکنے جیسی علامات ہوں تو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص اور علاج ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔ قارئین آپ اس موضوع پر مکمل ویڈیو یہاں دیکھ سکتےہیں۔