منصف ٹی وی کے مقبول پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج پیدائشی ہپ کے مسئلے Congenital Hip Dislocation پر خصوصی گفتگو کی گئی، جس میں معروف ماہر اطفال ڈاکٹر ودیا ساگر چندنکیرے نے تفصیل سے اس بیماری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
پروگرام میں بتایا گیا کہ Congenital Hip Dislocation، جسے طبی اصطلاح میں Developmental Dysplasia of the Hip (DDH) بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسی حالت ہے جس میں نوزائیدہ بچے کے کولہے کا جوڑ صحیح طرح سے اپنی جگہ پر موجود نہیں ہوتا۔ عام طور پر کولہے کا جوڑ ایک گیند اور ساکٹ (Ball and Socket) کی طرح ہوتا ہے، لیکن اس بیماری میں یہ جوڑ ڈھیلا یا مکمل طور پر اپنی جگہ سے ہٹا ہوا ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر ودیا ساگر کے مطابق یہ مسئلہ پیدائش کے وقت موجود ہوتا ہے اور بعض اوقات ابتدائی معائنے میں فوراً ظاہر نہیں ہوتا۔ اس کی وجوہات میں خاندانی تاریخ، ماں کے پیٹ میں بچے کی پوزیشن، خاص طور پر Breech پوزیشن، اور بچیوں میں اس کا زیادہ پایا جانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت تشخیص نہ ہو تو بچے کے چلنے پھرنے میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور مستقل معذوری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
علامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک ٹانگ کا چھوٹا نظر آنا، کولہوں کی حرکت میں کمی، یا چلنے کے دوران لنگڑاہٹ اس بیماری کی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں ڈاکٹر مخصوص جسمانی ٹیسٹ کے ذریعے اس کی تشخیص کرتے ہیں جبکہ الٹراساؤنڈ یا ایکس رے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
علاج کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نے واضح کیا کہ جتنی جلدی اس بیماری کی تشخیص ہو، اتنا ہی آسان اور مؤثر علاج ممکن ہے۔ ابتدائی مہینوں میں Pavlik Harness نامی خاص بیلٹ کے ذریعے کولہے کو صحیح پوزیشن میں رکھا جاتا ہے۔ اگر مسئلہ زیادہ سنگین ہو یا دیر سے تشخیص ہو تو سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ نومولود بچوں کا باقاعدہ طبی معائنہ کروائیں اور اگر کسی بھی قسم کی غیر معمولی علامت نظر آئے تو فوراً ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ پروگرام کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ آگاہی اور بروقت علاج کے ذریعے Congenital Hip Dislocation کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور بچے کو ایک صحت مند زندگی دی جا سکتی ہے۔