امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک عدالت نے اسٹار بکس کے حوالے سے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے اسٹاربکس کو حکم دیا ہے کہ وہ ڈیلیوری ڈرائیور کو 50 ملین ڈالر (تقریباً 434.75 کروڑ روپے) کا معاوضہ ادا کرے۔ درحقیقت اسٹاربکس ہاٹ بیوریج کو غلط طریقے سے بند کرنے کی وجہ سے یہ بیوریج ڈلیوری ڈرائیور پر گرا جس کی وجہ سے ڈرائیور کے جسم کے کئی حصے جھلس گئے۔ اس معاملے میں عدالت نے سٹاربکس کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ واقعہ 5 سال قبل پیش آیا تھا۔
یہ حادثہ 8 فروری 2020 کو پیش آیا۔ جب ڈیلیوری ڈرائیور مائیکل گارسیا نے لاس اینجلس میں اسٹاربکس ڈرائیو تھرو سے آرڈرلیا تھا ۔ عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، بریسٹا گرم مشروبات کو مشروبات کے کیرئیر میں محفوظ طریقے سے رکھنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں ڈرائیور تھرڈ ڈگری جھلس گیا، اعصاب کو نقصان پہنچا اور اس کی شکل بگڑ گئی۔
گارسیا کے اٹارنی، مائیکل پارکر نے کہا کہ ان کے مؤکل کو تین مشروبات سے بھرا ہوا ڈرنک کیریئر دیا گیا۔ اس میں گرم مشروبات کے پیکج کو محفوظ طریقے سے سیل نہیں کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے مشروب گارشیا کی گود میں گر گیا۔ حادثے میں لگنے والے زخموں کو جسمانی اور جذباتی نقصان قرار دیا گیا ہے، جس نے اس کے معیار زندگی کو بہت متاثر کیا ہے۔
عدالتی جیوری نے اس کیس میں متاثرہ ڈلیوری ڈرائیور مائیکل گارشیا کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس کی جسمانی تکالیف، ذہنی پریشانی اور طویل مدتی خرابی کو مدنظر رکھا۔
اسٹاربکس نے عدالتی فیصلے پر احتجاج کیا۔
لاس اینجلس ڈیلی نیوز کے مطابق اسٹار بکس کی ترجمان جیکی انڈرسن نے جیوری کے فیصلے پر اعتراض کیااور کہا کے ہم گارشیا کے نقصان پر اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہم جیوری کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں، انہوں نے کہا۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم اس حادثے کے ذمہ دار تھے، لیکن اس معاملے میں معاوضے کی رقم بہت زیادہ ہے۔