سپریم کورٹ نے ہندواڑہ نارکو ٹیرر کیس میں ملزم سید افتخار اندرابی کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے تک جیل میں قید رہنے کو ضمانت دینے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ اندرابی جون 2020 سے جیل میں بند تھے اور ان پر یو اے پی اے اور این ڈی پی ایس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج تھے۔ یہ فیصلہ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس اجل بھویان پر مشتمل بنچ نے سنایا۔
عمر خالد اور شرجیل امام کیس کا بھی ذکر
فیصلے کے دوران عدالت نے دہلی فسادات کیس کے ملزمان عمر خالد اور شرجیل امام کے مقدمات کا بھی حوالہ دیا۔ بنچ نے اس فیصلے پر اختلاف ظاہر کیا جس میں ایک دوسری بنچ نے دونوں کو ضمانت دینے سے انکار کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اندرابی کو جس اصول کے تحت ضمانت دی جا رہی ہے، وہ اصول پہلے ہی تین ججوں کی بنچ اپنے ایک سابق فیصلے میں طے کر چکی تھی، لیکن بعد کی دو ججوں کی بنچ نے اس اصول پر عمل نہیں کیا۔
عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ آئین کا آرٹیکل 21، جو زندگی اور شخصی آزادی کے حق کی ضمانت دیتا ہے، انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ یو اے پی اے جیسے سخت قوانین بھی کسی شخص کے بنیادی حقوق کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔
عدالت نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت اصول ہے، جیل نہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر مقدمے کی سماعت میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہو تو کسی فرد کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔
’نجیب کیس‘ کا حوالہ
عدالت نے اپنے فیصلے میں 2021 کے مشہور نجیب کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں تاخیر ضمانت دینے کی ایک مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بعد کے بعض فیصلوں میں اس اہم نظیر کو نظر انداز کیا گیا۔ جسٹس اجل بھویان نے فیصلے میں کہا کہ عدالتی نظم و ضبط کا تقاضا ہے کہ چھوٹی بنچ ہمیشہ بڑی بنچ کے فیصلوں کی پیروی کرے۔
تحقیقاتی ایجنسیوں پر بھی سوال
سپریم کورٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بعض حالیہ فیصلوں کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے تو تحقیقاتی ایجنسیاں صرف ابتدائی شواہد کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو برسوں تک بغیر مقدمہ چلائے جیل میں رکھ سکتی ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کو شخصی آزادی اور ٹرائل میں تاخیر سے متعلق آئینی حقوق کے تناظر میں ایک اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔