Thursday, January 15, 2026 | 26, 1447 رجب
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سپریم کورٹ کا 13 سال سے زندہ لاش زندگی گزار رہے ہریش رانا کیس میں سماعت،فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ کا 13 سال سے زندہ لاش زندگی گزار رہے ہریش رانا کیس میں سماعت،فیصلہ محفوظ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 15, 2026 IST

سپریم کورٹ کا 13 سال سے زندہ لاش زندگی گزار رہے ہریش رانا کیس میں  سماعت،فیصلہ محفوظ
سپریم کورٹ نے آج 15 جنوری کو 32 سالہ ہریش رانا ،جو 13 سال سے کوما میں ہیں،کے کیس میں یوتھنیشیا (ناقابل علاج حالت میں لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت) دینے کے حساس معاملے کی سماعت کی۔جہاں سپریم کورٹ نے  یویتھنیشیا کی اجازت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:کہ کیا ٹیوب ہٹانے سے مریض کی موت بھوک یا پانی کی کمی کی وجہ سے ہوگی، یا کیا مصنوعی خوراک (آرٹیفیشل فیڈنگ) کو ایک ایسی مصنوعی طبی مداخلت سمجھا جائے جو مریض کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔تاہم سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
 
یاد رہے کہ ،اہل خانہ کی جانب سے عدالت میں عرضی دائر کی  گئی ہے جس میں خواہش موت کی اجازت مانگی گئی ہے۔
 
 
ہریش کی حالت پر عدالت میں تبصرہ:
 
سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ حادثہ 2013 میں ہوا، وہ کتنے عرصے تک اسپتال میں داخل رہے؟ ایمیکس کیوری نے عدالت کو بتایا کہ وہ ڈسچارج ہونے سے پہلے کئی ماہ تک ہسپتال میں رہا۔ جسٹس پردی والا نے پھر پوچھا کہ تب سے ان کی حالت کیسی ہے؟ امیکس کیوری نے وضاحت کی کہ اس کے بعد سے اس کی حالت جوں کی توں ہے۔ انہیں خوراک دینے کے لیے لگی ٹیوب ہر دو سے تین مہینہ میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔
 
گھر پر ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے، لیکن ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) نے عدالت کو بتایا کہ ہریش کے علاج کے لیے ہائپربیریک آکسیجن تھراپی بھی آزمائی گئی تھی، لیکن وہ بھی ناکام رہی۔ بعد میں انہیں دورے (فٹس) بھی پڑنے لگے اور اب بھی وہ اس کے لیے دوائیں لے رہے ہیں۔ جب بھی کوئی اور طبی مسئلہ ہوتا ہے، انہیں ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور پھر گھر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ ان کی حالت مسلسل وہی بنی ہوئی ہے۔
 
سپریم کورٹ نے مزید کیا پوچھا : 
 
سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا وہ 2013 سے ٹیوبوں کے سہارے مستقل ویجیٹیٹو سٹیٹ میں ہیں؟ امیکس کیوری نے کہا کہ فیملی نے 2024 میں پیسیو یوتھینیشیا کے لیے دہلی ہائی کورٹ کا رُخ کیا تھا۔ اس وقت پرائمری میڈیکل بورڈ نے پایا تھا کہ ان کی حالت میں ایکٹو میڈیکل انٹروینشن کی ضرورت ہوگی، کیونکہ انہیں بغیر ایکٹو انٹروینشن کے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ نے اسے ایکٹو یوتھینیشیا کیسے مان لیا؟ بغیر بیرونی مداخلت کے انہیں زندہ کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ امیکس کیوری نے اس پر کہا کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔
 
کیا ہوا تھا ہریش کے ساتھ:
 
سال 2013 میں ہریش چندی گڑھ میں رہتے ہوئے تعلیم کے دوران ہاسٹل کی چوتھی منزل سے گر گئے تھے۔ ان کے سر میں شدید چوٹیں آئیں اور وہ کوما میں چلے گئے۔ اس کے بعد سے ہریش بستر پر ہیں۔ کھانے میں وہ پائپ کے ذریعے صرف مائع چیزیں لیتے ہیں۔ ماں باپ نے ان کے علاج کے لیے نوکری چھوڑ دی، گھر بیچ دیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے بیٹے کی خواہش موت (ایوتھینیشیا) کے لیے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔
 
ہریش کے خاندان نے پہلے بھی  سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا:
 
جولائی 2024 میں ہریش کے خاندان والوں نے دہلی ہائی کورٹ میں رضاکارانہ موت (ایوتھینیشیا) کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ اس وقت ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہریش بغیر کسی بیرونی مدد کے خود کو زندہ رکھنے کے قابل ہے۔ اس کے بعد خاندان والوں نے نومبر 2024 میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ تب موجودہ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ ہریش لائف سپورٹ مشینوں پر مکمل طور پر انحصار نہیں کر رہے ہیں۔
 
ایوتھینیشیا کا مطلب  کیا ہے؟
 
کسی شخص کی اپنی مرضی سے موت دینا۔ یہ دو طرح سے دی جاتی ہے:  
 
 ایکٹو یوتھینیشیا : اس میں بیمار شخص کو براہ راست زہریلی دوا یا انجیکشن دیا جاتا ہے۔
  
 پیسیو یوتھینیشیا : اس میں بیمار شخص کا علاج روک دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں آخر کار اس کی موت ہو جاتی ہے۔
 
 پیسیو یوتھینیشیا کے لیے پہلے پرائمری اور سیکنڈری میڈیکل بورڈ کی اجازت لی جاتی ہے۔ اگر رپورٹس میں تضاد ہو تو معاملہ عدالت میں چلا جاتا ہے۔