Monday, August 17, 2026 | 02 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے راحت

راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے راحت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 17, 2026 IST

راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے  راحت
کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی کو مبینہ غیر متناسب اثاثہ جات کیس (Disproportionate Assets Case) میں سپریم کورٹ سے عارضی راحت مل گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ میں 20 اگست کو ہونے والی سماعت کو فی الحال ملتوی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ معاملہ ایک درخواست سے متعلق ہے، جس میں راہل گاندھی پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے غیر ملکی دوروں پر تقریباً 60 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ یہ رقم ان کی مبینہ طور پر اعلان کردہ آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔
 
معاملہ سپریم کورٹ تک کیسے پہنچا؟
 
ہائی کورٹ میں یہ معاملہ بی جے پی کارکن وگنیش ششیر کی جانب سے دائر درخواست کے بعد سامنے آیا تھا۔ درخواست میں راہل گاندھی کے مبینہ اخراجات اور ان کے اثاثوں سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اسی معاملے میں 20 اگست کو سماعت مقرر کی تھی۔ راہل گاندھی نے ہائی کورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس کے بعد اعلیٰ عدالت نے معاملے پر فوری مداخلت کی۔
 
سپریم کورٹ نے کیا ہدایت دی؟
 
سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ راہل گاندھی کی عرضی کی ایک کاپی شکایت کنندہ کو فراہم کی جائے تاکہ وہ بھی اپنا موقف عدالت کے سامنے رکھ سکیں۔ عدالت نے مزید سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے سامنے فی الحال کوئی رپورٹ داخل نہ کریں۔ اس حکم کے بعد 20 اگست کو ہونے والی سماعت پر بھی فی الحال روک لگ گئی ہے۔
 
الزامات پر ابھی فیصلہ نہیں
 
اہم بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا موجودہ حکم الزامات کی سچائی یا راہل گاندھی کی ذمہ داری پر حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ عدالت نے فی الحال معاملے کی سماعت کے طریقہ کار اور مزید کارروائی سے متعلق ہدایات دی ہیں۔اب معاملے میں اگلی پیش رفت سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی اور متعلقہ فریقین کے موقف کے بعد سامنے آئے گی۔ یعنی فی الحال راہل گاندھی کو عدالتی کارروائی میں عارضی راحت ضرور ملی ہے، لیکن غیر متناسب اثاثہ جات اور غیر ملکی دوروں پر اخراجات سے متعلق الزامات پر حتمی قانونی فیصلہ ابھی باقی ہے۔