Tuesday, May 19, 2026 | 01 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سپریم کورٹ کا عمر خالد-شرجیل امام ضمانت معاملے میں سابقہ فیصلے پر اعتراض ؟

سپریم کورٹ کا عمر خالد-شرجیل امام ضمانت معاملے میں سابقہ فیصلے پر اعتراض ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 18, 2026 IST

سپریم کورٹ  کا عمر خالد-شرجیل امام   ضمانت معاملے میں سابقہ فیصلے  پر اعتراض ؟
سپریم کورٹ نے پیر کے روز غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت الزامات کا سامنا کرنے والے ایک شخص کو ضمانت دیتے ہوئے اپنے ہی ایک سابقہ فیصلے سے اختلاف کا اظہار کیا ہے۔جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھویان پر مشتمل بنچ نے منشیات کے دہشت گردی کیس میں ایک ملزم کو ضمانت دیتے ہوئے یہ اہم مشاہدہ کیا۔ 
 
بنچ نے 'نجیب کیس' کا تاریخی فیصلہ یاد دلایا:
 
پیر کے روز سپریم کورٹ کی بنچ جموں و کشمیر کے کپواڑہ کے رہائشی سید افتخار اند رابی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ اندرابی جون 2020 سے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے نارکو ٹیررازم کیس میں جیل میں بند ہے۔
 
سماعت کے دوران بنچ نے 'یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب (2021)' کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں 3 ججوں کی بنچ نے کہا تھا کہ اگر یو اے پی اے کیس میں ٹرائل (مقدمے کی کارروائی) میں طویل تاخیر ہو، تو ملزم کو طویل عرصے تک جیل میں رکھنا آئین کے خلاف ہے۔
 
 نجیب کیس کا فیصلہ کیا تھا؟
 
2021 کے نجیب کیس میں سپریم کورٹ نے کیرالہ کے ایک پروفیسر پر حملے کے معاملے میں 2015 سے جیل میں بند ملزم کی ضمانت برقرار رکھی تھی۔ عدالت نے مانا تھا کہ:آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل 'فوری ٹرائل کا حق' یو اے پی اے کے ملزمان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔اگر مقدمے کی سماعت میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہو، تو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت بھی ضمانت کا اجمالی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
 
 عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانتیں کب مسترد ہوئیں؟
 
اسی سال جنوری میں سپریم کورٹ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاری کی بنچ نے ٹرائل میں تاخیر کی بنیاد پر دائر عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ حالانکہ عدالت نے اس وقت بھی یہ مانا تھا کہ دہشت گردی کے مقدمات میں بھی ضمانت ایک عام اصول ہونا چاہیے اور بغیر ٹرائل کے کسی کو طویل عرصے تک قید نہیں رکھا جا سکتا۔ واضح رہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام دہلی فسادات کے کیس میں گزشتہ 5 سال سے جیل میں ہیں۔
 
 کون ہے سید افتخار اندرابی، جسے ضمانت ملی؟
 
جانچ ایجنسی (NIA) کے مطابق، اندرابی اور اس کے دیگر ساتھیوں کے لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین کے پاکستان میں بیٹھے ہینڈلرز کے ساتھ روابط تھے۔ان پر الزام ہے کہ وہ بھارت میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی خاطر سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلا رہے تھے۔
 
اس سے قبل این آئی اے کورٹ اور جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے اندرابی کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔ تاہم، پیر کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اندرابی کو این آئی اے عدالت کی طے کردہ شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کیا جائے۔