Thursday, April 03, 2025 | 05, 1446 شوال
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • اتر پردیش میں بلڈوزر کی کارروائی پر سپریم کورٹ سخت ، معاوضہ دینے کا دیاحکم

اتر پردیش میں بلڈوزر کی کارروائی پر سپریم کورٹ سخت ، معاوضہ دینے کا دیاحکم

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Mia | Last Updated: Apr 01, 2025 IST     

image
سپریم کورٹ نے 2021 میں اتر پردیش کے پریاگ راج میں ہونے والی بلڈوزر کارروائی پر سخت موقف اختیار کیا ہے ۔عدالت نے پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو حکم دیا ہے کہ وہ 5 درخواست گزاروں کو ہر ایک کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کريں۔ اتھارٹی کو یہ معاوضہ 6 ہفتوں میں ادا کرنا ہوگا۔عدالت نے اس معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہمارا ضمیر جھنجھوڑتا ہے اور اتھارٹی نے من مانی طریقے سے مکان گرانے کا عمل کیا۔
 

کیا ہے معاملہ؟

2021 میں پریاگ راج میں ایک وکیل، ایک پروفیسر اور 3 دیگر لوگوں کے مکانات گرائے گئے۔ان لوگوں کو 6 مارچ 2021 کو نوٹس دیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ یہ زمین سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے نام تھی ۔عرض  گزاروں نے دعویٰ کیا کہ نوٹس جاری ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر اور اپیل کے لیے کوئی وقت دیے بغیر مکانات گرا دیے گئے۔بعد میں عرضی گزاروں نے الہ آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔
 

مکان گرانے کا عمل غیر آئینی :عدالت 

عدالت نے کہا، مکان گرانے کا عمل غیر آئینی تھا۔ یہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ پناہ کا حق بھی کوئی چیز ہوتی ہے، ڈیو پروسیس بھی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی کارروائی کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔عدالت نے کہا کہ یہ معاوضہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں حکومتیں مناسب طریقہ کار کے بغیر لوگوں کے مکانات گرانے سے باز رہیں۔
 

اکھلیش یادو نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اکھلیش یادو نے فیصلے پر لکھا ، اس معاملے میں عدالت نے نوٹس ملنے کے 24 گھنٹے کے اندر مکان گرانے کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ گھر صرف پیسے سے نہیں بنتا اور نہ ہی اس کے ٹوٹنے کا زخم صرف پیسے سے بھرا جا سکتا ہے۔ پریوار والوں کے لیے گھر ایک جذبہ ہے۔ اس کے ٹوٹنے پر جو تکلیف ہوتی ہے اس کی تلافی کوئی نہیں کر سکتا۔
 

عدالت نے لڑکی کی وائرل ویڈیو کا بھی ذکر کیا۔

عدالت نے حال ہی میں وائرل ہونے والے ایک ویڈیو کا بھی حوالہ دیا۔ اس ویڈیو میں بلڈوزر آپریشن کے دوران ایک لڑکی اپنی کتابوں کے ساتھ گرتی ہوئی جھونپڑی سے بھاگتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔جسٹس اجل بھویاں نے کہا،  24 مارچ کو امبیڈکر نگر، اتر پردیش میں انسداد تجاوزات مہم کے دوران ، ایک طرف جھونپڑیوں کو گرانے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کیا جا رہا تھا اور دوسری طرف ایک 8 سالہ بچی اپنی کتاب لے کر بھاگ رہی تھی۔ اس تصویر نے سب کے مردہ ضمیر  کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
 

گزشتہ سال سپریم کورٹ نے بلڈوزر کی کارروائی پر روک لگا دی تھی:

جمعیت علمائے ہند اتر پردیش اور دیگر بی جے پی  حکومت والی ریاستوں میں بلڈوزر کی کارروائی کو لے کر سپریم کورٹ گئی تھی۔ جمعیت کا استدلال تھا کہ یہ کارروائی ایک خاص برادری کو نشانہ بنا کر کی جا رہی ہے۔اس کے بعد عدالت نے بلڈوزر کی کارروائی پر پابندی لگا دی تھی اور کہا تھا کہ جو حکومتیں من مانی طور پر بلڈوزر چلاتی ہیں وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی مجرم ہیں۔ مکان بنانا آئینی حق ہے۔ پناہ کا حق بنیادی حق ہے۔